(8) آٹھویں وصیت : شوہر پر بیوی کا حق

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

جس طرح حضور ﷺنے بیوی پر شوہر کے حقوق کی وصیت فرمائی ہے، اسی طرح شوہر پر بیوی کے حقوق کے بارے میں بھی وصیت فرمائی ہے، اور اس کا ذکر بھی احادیث مبارکہ میں  آیاہے۔

چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں : کہ اللہ کے نبی ﷺنے ارشاد فرمایا :"  اللہ میں (لوگوں پر) دو کمزوروں : یتیم اور عورت کے حق مارنے کو حرام کرتا ہوں"۔[1]

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول ﷺکی بارگاہ میں عرض کیا یا رسول اللہ! بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :

" أن يُطْعِمَها إذا طعمَ وأن يَكْسوَها إذا اكتسَى ولا يَضربِ الوجهَ ولا يُقبِّحْ ولا يَهْجرْ إلَّا في البيتِ".[2]

" جب شوہر کھاۓ تو بیوی کو بھی کھلاۓ، جب وہ پہنے تو بیوی کو بھی پہناۓ، اور اس کے چہرے پر نہ مارے، اور نہ اس کو برا بھلا کہے، اور گھر کے علاوہ ( اگر وہ اس کی نا فرمانی کرے) کسی اور جگہ اس سے بات چیت کرنا نہ چھوڑے"۔

 " لا يقبح" اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو برا بھلا نہ کہے اور نہ اس کو گالی دے، جیسا کہ یہ کہنا" قبحك الله "  اللہ تیرا برا  کرے۔

 

شوہر پر بیوی کے کچھ اہم حقوق یہ ہیں :

1  بیوی کو کھانا اور کپڑے فراہم کرنا۔

2  اس کو علم شرعی سیکھانا اور اس راہ  میں اس کی مدد کرنا۔

3  اس کے احساس و شعور کا خیال رکھنا۔

4  اس کی جسمانی خواہشات کو پورا کرنا۔

5  بیوی کا دل بہلانا اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔

6  اس کے راز کو تلاش نہ کرنا اور نہ ہی اس کی جاسوسی کرنا۔

7  اس کی اذیتوں پر تحمل مزاجی اور صبر سے کام لینا۔

8 اس کے ذاتی  مال کی حفاظت کرنا۔

9  اس کے ساتھ وفاداری کرنا۔

10  گھر کے علاوہ ( اگر وہ اس کی نا فرمانی کرے) کسی اور جگہ اس سے بات چیت کرنا نہ چھوڑنا۔

11 بیویوں کے درمیان (اگر ایک سے زیادہ ہوں) عدل و انصاف اور باری سے کام لینا۔

12  مسجد اور دیگر جگہوں پر اس جانے کی اجازت دینا۔

13  طلاق کے بعد بچوں کو پرورش کے لیےاس کے حوالے کرنا۔

14  نا اتفاقی اور نا پسندیدگی کے وقت اس کو حق خلع دینا۔

15   بیوی کے لیے آرائش و زیبائش اختیار کرنا۔

16   چہرے پر نہ مارنا۔

17  مطلقہ بیوی کو عدت پوری ہونے تک گھر میں رکھنا۔

18  عدت کے بعد بھلائی  کے ساتھ اس کو روکنا یا احسان کے ساتھ اس کو چھوڑ دینا۔

 

 


[1]  یہ حدیث حسن ہے، نسائی  " عشرة النساء" (267) (268)  ، ابن ماجہ (1281)،احمد (/2439)اور حاکم (1/63)  نے اس کی تخریج کی ہے اور  تصحیح  بھی۔

[2]  یہ حدیث صحیح ہے، امام احمد نے (4/447)، ابو داود نے (2142)، نسائی نے " عشرہ" (269)، ابن ماجہ (1850) اورحاکم نے (2/ 187،188،)نے اس کی تخریج  کی ہے اور  تصحیح  بھی ، اور امام ذہبی نے اس کو باقی رکھا ہے۔

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون

اسی قسم کے مضامین