(7) ساتویں وصیت : بیوی پر شوہر کا حق

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

حضور ﷺنے بیویوں کو اپنے شوہروں کا حق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، اور یہ بہت سی احادیث مبارکہ میں صراحت کے ساتھ وارد ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے، فرماتے ہیں : حضور ﷺنے ارشاد فرمایا:

 " کسی انسان کو کسی  انسان کے لیےسجدہ کرنا جائز  نہیں ہے، اگر جائز  ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اس کا  اس پربہت زیادہ حق ہے  "۔ [1]

اور حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے حضور ﷺسے پوچھا کہ عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپﷺنے فرمایا :" اس کے شوہر کا "، پھر انہوں نے سوال کیا کہ مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا :" اس کی ماں کا"۔[2]

 ان احادیث میں اس بات کا بیان ہے کہ شوہر کے بیوی پر بہت زیادہ حقوق ہیں جن کو ادا کرنے سے وہ عاجز ہے، اور اس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بیوی پر شوہر کے حقوق ادا کرنا واجب ہے، کیونکہ سجدہ غیر اللہ کے لیےجائز  ہی نہیں ہے، بلکہ حضور ﷺنے تو شوہر کی اطاعت کو ان اسباب میں شمار کیا ہے جن پر عورت کا جنت میں جانا موقوف ہے، چنانچہ آپ ﷺارشاد فرماتے ہیں :" جب عورت پانچوں وقت کی نماز ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، شرمگاہ کی حفاظت اور شوہر کی اطاعت کرے، تو  جس دروازے سے چاہے جنت  میں چلی   جائے"۔ [3]

 


[1]  یہ حدیث صحیح ہے،  اسے  امام احمد نے  (3/158)، امام نسائی نے " عشرة النساء" (265) میں اور بزار نے اس کی تخریج کی ہے، جیسا کہ "مجمع الزوائد" (9/4) میں ہے۔

[2] یہ حدیث صحیح ہے، اسے  امام احمد نے  (3/158)، امام نسائی نے " عشرة النساء" (266) میں اور بزار نے اس کی تخریج کی ہے، جیسا کہ "مجمع الزوائد" (9/4) میں ہے، اور   ہیثمی  نے کہا ہے : اس کے راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں سوا ئے حفص کے  جو انس کے بھتیجے ہیں کیونکہ وہ ثقہ ہیں۔

[3]  یہ حدیث صحیح ہے،  احمد (1/191)، ابن حبان  ( 1451)وابو نعیم" حلية" (6/308) ، اور ابن عدی نے حضرت ابن عوف اور ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہما  سے " کامل" (3/993) میں اس کی تخریج کی ہے۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون