حائضہ سے جماع كے منع كرنےکے اسرار و حکمتیں

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

میری مسلمان بہنوں!

اللہ رب العزت کے ہر حکم میں بہت  سےاسرار وحکمتیں و فوائد و ثمرات پوشیدہ ہوتے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے، اور اس میں کوئی حیرت و تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ جس اللہ نے شریعت بنائی ہے وہ حکیم و خبیر اور علیم وقدیر ہے، چنانچہ اللہ پاک کلام مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (222)[1]

ترجمہ : وہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئے وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں ،اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہو لیں، پھر جب پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا، بے شک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔

چنانچہ حالت حیض میں دور رہنے کی علت یہ بتائی کہ حیض کا خون گندی (یا نا پسندیدہ و تکلیف دہ) ہے۔

اس آیت میں علت لفظ " أذی" آیا ہے جسے لغت میں : ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو نا پسند ہو۔

اور حضرت قتادہ کہتے ہیں : اس کا معنی : گندگی ہے۔

اے مسلمان بہن!

کیا حیض کا خون بدبودار نہیں ہوتا؟ ضرور ہوتا ہے، چنانچہ وہ گندگی اور تکلیف دہ ہے۔

کیا حیض کا خون عورت کو مؤثر نہیں کرتا ہے؟ ضرور کرتا ہے اسی لیےوہ اذیت دہ ہے۔

          حیض کے خون کی بدبو سے خود عورت اور اس سے قریب ہونے والے کو اذیت ہوتی ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ طب اس بارے میں کیا کہتی ہے۔

 حیض کے خون کے ساتھ اینڈومیٹریم (endometrium) جھڑ جھڑ کر اس کے ساتھ باہر آ جاتا ہے، چنانچہ خوردبین کے ذریعہ حیض کے خون کی چانچ سے پتہ چلا کہ اس خون کے اندر اس کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے رحم سوجھ جاتا ہے اور زخمی بھی جاتا ہے یا یہ کہیے کہ وہ اس جگہ کی طرح ہو جاتا ہے جس کی کھال اتار دی گئی ہو، چنانچہ اس کے اندر بیکٹریا و جراثیم ، سے لڑنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے، جو کبھی اسے بے کار بھی دیتے ہیں، اس طرح سے رحم ان بیکٹریا و جراثیم کے پرورش  اور کی زیادتی کے لیےایک مناسب اور بہتر جگہ بن جاتا ہے،کیونکہ خون جیسا کہ معلوم ہے ان کے لیےسب سے بہتر جگہ ہے۔

اسی وجہ سے حالت حیض میں وطی کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس سے یہ بیکٹریا و جراثیم داخل ہو جائیں گے یا یہ کہیے کہ کمزور رحم کے اندر چلے جائیں گے ، اور اس میں ان جراثیم کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں ہوگی، نیز حالت حیض میں جراثیم کُش کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔

مزید برآں ، انفیکشن بچہ دانی کی ٹیوبوں تک پہنچ سکتا ہے اور انہیں بند کرسکتا ہے، یا انڈاشی سے انڈے دانی تک انڈے لے جانے والی ان کی نسوں پر برا اثر کر سکتا ہے، اور فیلوپین ٹیوب کی بندش سے بانجھ یا ایکٹوپک حمل ہونے کا خطرہ ہے، اور پھر اس سے نالی پھٹ سکتی ہے اور اندرونی خون بہہ سکتا ہے جو موت کا سبب بن سکتا ہے، اور یہ انفیکشن پیشاب کی نالی تک بھی پہنچ سکتا ہے اور پورے آلات اور بچہ دانی کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

لہذا عورت کے لیےحیض میں جماع  اذی (تکلیف دہ )ہے جیسا کہ قرآن پاک نے واضح کیا ہے اور جدید طب سے ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید حالت حیض میں عورت کبھی سر درد اور خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے جیسا کہ کبھی وہ نفسیاتی وشعوری پریشانیاں و مصائیب وآلام سے دوچار ہوتی ہے، اس وجہ سے اس میں سستی آ جاتی اور خون کا پریشر کم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے لا محالہ اس کی جنسی خواہشات  کم ہو جاتی ہے، چنانچہ ایسی حالت میں عورت کے ساتھ جماع کرنا اس کے لیےتکلیف و اذیت کا باعث ہے کیونکہ اس میں اس کی نفسیاتی و جنسیاتی حالات کی رعایت نہیں ہو گی۔

اسی طرح سے حالت حیض میں جماع کرنے سے مرد کو بھی اس سے نقصان ہوگا، کیونکہ یہ اس کے اندر جراثیم کے زیادتی پیشاب کی نالی میں انفیکشن اور اسٹافیلوکوک Staphylococcus کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے۔ [2]

لہذا ان سب اور ان کے علاوہ اسباب وحکمتوں کی وجہ سے اسلام نے حیض کے دوران جماع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

 

 



[1] سورۂ بقرہ، 222

[2]  ماخوذ  از  بحث  پروفیسر محمد شرقاوی :  ( المحيض بين إشارات القرآن والطب) 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون