(24) چوبیسویں وصیت : اسرارجماع دوسروں سے نہ بتائے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Español हिन्दी

اسلام نے جن چیزوں سے منع فرمایا ہے انہیں میں سے ایک یہ  ہے کہ زوجین میں سے کوئی جماع  اور ہمبستری کی باتوں کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنا ان  امور قبیحہ سے ہے جو ایک پرہیزگار مومن کے شایانِ شان نہیں ہے۔

جو مرد جماع  اور ہمبستری کی باتیں کسی سے بیان کرتا ہے تو در حقیقت وہ ایک شیطان ہے  اسی طرح وہ عورت جو اپنی ہمبستری کی باتیں کسی سے بیان کرتی ہے وہ بھی ایک شیطان عورت ہے۔

حضور ﷺفرماتے ہیں :" قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برا شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے(یعنی جماع کرتا ہے) اور وہ اس کے پاس جاتی ہے پھر ان میں سے کوئی اپنے ساتھی کے راز(کسی سے) بیان کرتا ہے"۔

اور ایک دوسری روایت میں ہے :" قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت (میں خیانت) یہ ہے کہ مرد و عورت ایک دوسرے سے جماع کریں پھر اس(جماع) کی پوشیدہ باتوں کو دوسروں سے بیان کریں"۔

تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زوجین کا ہمبستری کی پوشیدہ اور مخفی باتوں کو کسی سے بیان کرنا ناجائز وحرام ہے،  اور یہ اسلام کے عظیم وبلند و بالا آداب و اخلاق کی ایک صورت و جھلک ہے۔

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون