1. مضامين
  2. ۳۰ نبوی وصیتیں شب زفاف کی زوجین کے لیے
  3. (6) چھٹی وصیت : بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنا

(6) چھٹی وصیت : بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنا

62 2019/11/12 2020/06/03
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

شف زفاف  میں  زوجین کے لیے اللہ کے رسول ﷺکی وصیتوں میں سے ایک وصیت شوہر کا بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی ہے، اس لیےکہ بیوی کے ساتھ شوہر کا تعامل پہلی رات سے ہی ظاہر ہوتا ہے، تو اگر شوہر نے پہلی رات ہی اس کے ساتھ حسن سلوک کیا اور نرمی و محبت سے پیش آیا، تو یہ آنے والی زندگی کو خوش گوار بنانے کے لیےاچھا  نمونہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :  وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئیا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (19)  [1]،  ان سے اچھا برتا ؤ  کرو پھر اگر وہ پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں نا پسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے ۔

تو شوہر شب زفاف ہی میں اپنی ازدواجی زندگی کو اپنے اور اپنی بیوی کے لیے دعائے برکت اور اس کے ساتھ الفت و محبت کے اظہار کے ساتھ شروع کرے، کیونکہ شوہر ہی بیوی کا نگہبان اور ذمہ دار ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺکی وصیت ہے :

  تم میں سے ہر ایک نگہبان اور  اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے، تو بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ونگہبان ہے ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری اور نگہبانی کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے اہل و عیال کا ذمہ دار و نگہبان ہے اس سے اس کی ذمہ داری اور نگہبانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار و نگہبان ہے اس سے اس کے بارے پرشش ہوگی، خادم اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار و نگہبان ہے اس سے اس بارے میں سوال کیا جائے گا اور بیٹا اپنے باپ کے مال کا ذمہ دار و نگہبان ہے اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا، تو تم میں سے ہر ایک ذمہ دار و نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری اور نگہبانی کے بارے میں سوال ہوگا۔[2]

ایک اچھا شوہر جب اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے تو اس کی وجہ سے گھر اور اہل و عیال پر اچھا اثر پڑتا ہے، گھر میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے، اور اسی حسن سلوک سے اہل خانہ میں یکجہتی اور آپسی تعاون ہوتا ہے، بچے بھی ایک اچھے خاندانی ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اور ایک اچھا شوہر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :" وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئیا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ".[3]  پر عمل کرتے ہوئے اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے ۔

اور ایک اچھا شوہر اللہ کے رسول ﷺکے اس فرمان : " عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان اور اس کے کلمہ کے ذریعے حاصل کیا ہے اور اپنے لیےحلال کیا ہے"۔[4] پر عمل کرتے ہوئے بھی اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے ۔

 اللہ کا وہ کلمہ جس کے ذریعے نکاح کو مشروعیت اور مرد و عورت کے مابین تعلقات کو جواز کا حکم ملا وہ یہ ہے" فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ " [5]، یعنی تمہیں خوش آنے والی عورتوں سے نکاح کرو۔

 



[1] سورة النساء ،آیت 19

[2] یہ حدیث صحیح ہے، بخاری ( 2/6،3/196)، مسلم ( 1829)و احمد  (3/54)

[3] سورة النساء ،  آیت 19

[4]  یہ حدیث صحیح ہے،  مسلم (1218)،احمد  (3/313)،ابن خزیمہ  (2809)وابن حبان نے (3/9)

 

[5] سورة النساء ،  آیت ۳

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day