(21) اکیسویں وصیت : بیوی کے علاوہ (دوسروں سے) ستر کی حفاظت کرے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

مسلم شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی اور باندی کے علاوہ تمام لوگوں سے اپنے ستر  کی حفاظت کرے۔

اس میں کوئی عیب وتعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول ﷺکی بارگاہ میں عرض کی : اے اللہ کے رسول، ہم اپنے ستر  کو کتنا  ظاہر کریں اور کتنا چھائیں؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :" اپنی بیوی اور باندی کے علاوہ سب سے اپنے ستر  کی حفاظت کرو" وہ فرماتے ہیں اس کے بعد میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اگر لوگ ایک ساتھ ہوں تو کیا کریں؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :" اگر تم اس پر قادر ہو کہ اس کی حفاظت کرو تو تم ضرور ایسا کرو" وہ بیان کرتے ہیں اس کے بعد میں نے عرض کیا : اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو تو ؟ آپ ﷺنے فرمایا :" اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیا کی جائے"۔[1]

اور ستر  کی حفاظت کا مطلب ہے اس کو دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرنا ، کیونکہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی گئی تو ان کا ستر بھی چھپا ہوا تھا، اور آدم حوا  علیہما السلام  کا بھی یہ حصہ ایک دوسرے سے چھپا ہوا تھا، پھر وہ جنت میں داخل ہوئے لیکن انہیں اس کا علم نہیں تھا، یہاں تک کہ جب انہوں نے درخت سے کھایا تو ان کا ستر کھل گیا چناچہ  انہیں اس کو چھپانے کا حکم دیا گیا۔

اور حدیث شریف میں " حفاظت" کا استعمال کیا گیا نہ کہ " چھپانے" کا تاکہ اس بات کی طرف اشارہ ہو جائے کہ اللہ اوراس کی مخلوق میں سے جس سے حیا ضروری ہے اس سے ستر کو چھپانابھی ضروری ہے، جیسا کہ اللہ نے اپنے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا :

" وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ(29) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (30)"[2]

          ترجمہ: اور(کامیاب ہیں) وہ  جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں اور ہاتھوں کی کمائی (لونڈیوں)  سے کہ ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔

کیونکہ ستر کا کھلا رکھنا بے حیائی اور زنا کا داعی ہے۔

اس میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ مرد کا عورت کی شرمگاہ کو دیکھنا جائز ہے، اور بعض لوگوں نے اس سے یہ بھی اخذ کیا ہے کہ مرد کے لیےضروری ہے کہ وہ عورت کو اپنے آپ سے لطف اندوز ہونے دے۔

حدیث شریف میں آیا ہے " اگر تم اس پر قادر ہو کہ اس کی حفاظت کرو تو تم ضرور ایسا کرو"  اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے ستر کی حفاظت کرو، اور اگر کھولنے کی ضرورت پڑے تو بقدر حاجت جائز ہے۔

حدیث شریف میں آیا ہے " اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیا کی جائے " اس کا مطلب ہے کہ لوگوں سے زیادہ  اللہ سے حیا ضروری ہے  لہذا تنہائی میں بھی ستر نہ کھولا جائے اگرچہ اس  اللہ  سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے وہ ظاہر و باطن سب دیکھتا وجانتا ہے، لیکن ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ ستر کو چھپایا جائے۔

امام علائی اور ان کے علاوہ کچھ علمائے کرام  فرماتے ہیں: اس میں مقام مراقبہ کی طرف اشارہ ہے؛ کیونکہ  انسان جب لوگوں سے حیا کی وجہ سے ان کے سامنے اپنا ستر ظاہر کرنے سے بچتا ہے تو اللہ جو ہر وقت اس کے تمام احوال پر مطلع ہے وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیا کی جائے،اورمقام  مراقبہ کے بہت سے داعی ومقتضی ہیں ان میں سب سے بڑا داعی حیا ہے۔ [3]

حکیم ترمذی  فرماتے ہیں :" جس شخص نے تنہائی میں ستر کھولا اور حیا نہیں کی تو وہ  ایسا بندہ ہے جس کا  دل اپنے رب اللہ سے غافل ہے، وہ اس بات کو یقیناً نہیں جانتا کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

اسی لیےحضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو اللہ سے حیا کی وجہ سے سر پر کپڑا ڈال لیتے تھے، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  تاریکی واندھیرے میں غسل فرماتے تھے تاکہ وہ خود بھی اپنے ستر کو نہ دیکھ سکیں۔

 

 

 



[1]  حدیث صحیح، ابو داود ( 4017)،ترمذی (2794)،ابن ماجہ (1920)، احمد (5/43)، حاکم (4/180)،بیہقی  " سنن کبری" (1/119)،(2/225)، ابو نعیم " حلیہ" (7/121)، طبرانی "  المعجم الکبیر" (19/413)

[2] سورة المعارج، آیت:29،30

[3]  امام مناوی کی " فیض القدیر" (1/195،196)

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون