1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. اے بنو سلمہ! اپنے انہیں گھروں میں رہو ، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں

اے بنو سلمہ! اپنے انہیں گھروں میں رہو ، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں

37 2020/06/16 2020/09/19
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وه مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، تو آپ نےان سے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو، انھوں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم واقعتاً  یہ ارادہ کر چکے ہیں، تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : " اے بنو سلمہ! اپنے انہیں گھروں میں رہو ، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں، اپنے انہیں گھروں میں رہو، تمھارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔"

جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور مسجد تعمیر فرمائی تو مہاجرین آپ کے پاس آگئے  اور آپ کے قریب ہی انہوں نے اپنے گھر بنا لیے اور بہت سے انصار بھی ایسا ہی کرنے لگے تاکہ کہ نبی کریم ﷺ کے پڑوس میں رہیں، آپ کے ساتھ پانچوں وقت کی نمازیں ادا کریں، آپ کے چہرہ انور کی زیارت سے لذت حاصل کریں، آپ سے دینی احکام بھی سیکھیں اور مسجد کے قریب بھی رہیں، چنانچہ جب مسجد کے قریب کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنو سلمہ نے یہ چاہا کہ وہ اپنے گھر ان خالی جگہوں میں منتقل کرلیں کیونکہ ان کے گھر مسجد سے بہت دور تھی چنانچہ نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی اور نبی کریم ﷺ یہ چاہتے تھے کہ یہ جگہیں خالی ہی رہیں تاکہ مسلمان قتال کی مشق کرنے اور قیدیوں کو رکھنے وغیرہ دیگر کاموں میں ان خالی جگہوں سے فائدہ اٹھائیں۔

لہذا نبی کریم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا:" مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔" تاکہ ان کے بارے میں نبی کریم ﷺکو جو خبر پہونچی تھی اس کی تصدیق ہو جائے اور انہیں اس کی طرف رہنمائی فرمائیں جو انہیں اس معاملے میں کرنا چاہیے۔

تو بنو سلمہ نے عرض کیا: "ہاں اے اللہ کے رسول! ہم  واقعتاً یہ ارادہ کر چکے ہیں۔"

چنانچہ انہوں اپنی بات یعنی ارادے کو لفظ "قد" کے ساتھ رکھا جو قوت عزم وارادہ کا معنی بتانے کے لیے آتا ہے، یعنی وہ اس اپنے عزم و ارادے کے وقوع کے منتظر تھے، جیسے کہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں ہے:

﴿ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ  قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ ﴾ (سورہ مجادلہ : 11) ( ترجمہ: بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے  اور اللہ سے شکایت کرتی ہے۔ کنز الایمان) کیونکہ وہ عورت اس بات کی منتظر تھی کہ اللہ اس کے شکوے کو سنے اور فیصلہ فرمائے۔

اور جیسا کہ مؤذن اقامت  کے وقت کہتا ہے: قد قامت الصلاة، یعنی جس نماز کے تم منتظر تھے وہ کھڑی ہو چکی ہے۔

چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: اے بنو سلمہ اپنے انہیں گھروں میں رہو اور وہاں سے یہاں منتقل نہ ہو، کیونکہ مسجد کی طرف چل کر آنے والے تمہارے قدموں کے نشانوں کو اللہ تعالی لکھتا ہے(اور ان کے حساب سے تمہیں جزا عطا فرمائے گا) لہذا یہ بشارت سن کر بنو سلمہ بہت خوش ہوئے اور اس بات پر انہوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی کہ انہوں نے اپنے گھروں کو نہیں چھوڑا اور وہاں سے مسجد کے قریب منتقل نہ ہوئے جیسا کہ امام مسلم کی ایک دوسری روایت مذکور ہے کہ انہوں نے کہا:

"مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا" یعنی ہمیں مسجد کے قریب منتقل ہونے سے خوشی نہیں ہوتی۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day