اللہ ( کے احکام کی) کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں اللہ کے رسول ﷺکے پیچھے (سوار) تھا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: " اے بچے میں تجھے کچھ کلمات سکھاتا ہوں : اللہ ( کے احکام کی) کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا، اللہ ( کے فرامین کا خیال) رکھ، تو اللہ (کی رحمت) کو اپنے سامنے پائے گا، جب مانگ تو اللہ سے مانگ، جب مدد طلب کر تو اللہ سے مدد طلب کر، اور یاد رکھ کہ اگر پوری دنیا تجھے کچھ فائدہ پہونچانے کی کوشش کرے تو وہ تجھے کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی سواے اس کے جو( پہلے سے ہی) اللہ نے تیری نصیب میں لکھ دیا ہے، اور اگر سارہ دنیا تجھے کچھ نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو وہ تجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی سواے اس کے جو ( پہلے سے ہی) اللہ نے تیرے مقدر میں لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں"۔

بیشک یہ بالکل آسان کلمات ہیں ان کا یاد کرنا دشوار نہیں ہے، ان کا مطلب بھی بالکل واضح ہے انہیں سمجھنے کے لئے کسی تاویل کے ضرورت نہیں ہے، چنانچہ یہ اپنے آپ میں خود ایک بیان ہیں، ان میں مومن کے دل لئے ایسی لذت و شیرینی ہے جو اسے انکے علاوہ کسی دوسرے آدمی کے کلمات میں نہیں مل سکتی، وہ ان کی شیرینی کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، ان کی حرارت و برودت اس کی رگوں دوڑتی ہے اور ان سے اس کے ضمیر کو سکون پر سکون حاصل ہوتا ہے۔

میں اس دلربا عمدہ اسلوب سے متعجب و حیران ہو کر اس میں غور و فکر کرتا رہا، تو کبھی میں اس کے معجز ایجاز و اختصار کو دیکھتا، تو کبھی میں اس کے مفید و نفع بخش اطناب کو دیکھتا، کبھی میں اس کی بلیغ تشبیہات اور عمدہ کنایات میں نظر دوڑاتا جو اپنے آپ میں ایک مثال ہیں اور ذہن و دماغ میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں، کبھی میں ان کلمات کے ظاہری معانی اور مخفی لطائف و باریکیوں کو دیکھتا اور کبھی میں ان کے دینی و دنیوی مقاصد کو دیکھتا، چنانچہ غور و فکر کے بعد مجھے پتہ چلا کہ یہ وصیت ایک عظیم سمندر ہے جس سے علم و حکمت کے چشمے بہتے ہیں جو معلم کائنات کی رحمت سے جاری ہوتے ہیں۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون