1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. اللہ کی پناہ مانگا کرو آزمائش (آفت) کی مشقت سے

اللہ کی پناہ مانگا کرو آزمائش (آفت) کی مشقت سے

61 2020/06/25 2020/12/05
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: " اللہ  کی  پناہ مانگا کرو آزمائش (آفت) کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے"۔

" آزمائش (آفت) کی مشقت سے" یعنی اس کی سختی، دشواری، اس کے برداشت کرنے کی طاقت کا فقدان، اس سے نکلنے اور چھٹکارہ پانے سے حیلوں کی کمی، اس کا سامنا کرنے سے تنگ دلی، اس میں جو انعامات ہیں اور اس کے برداشت کے بعد جو ثواب ہے اس کے ادراک سے قاصر رہنا، کیونکہ آزمائش امتحان ہے اور امتحان خیر وشر دونوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔

 بندہ جب " بدبختی کی پستی" سے پناہ مانگے تو اسے  ان تمام گناہوں کی تلافی کی کوشش  کرنی چاہیے جو اس (بدبختی) کا سبب ہیں۔

نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دعا کا طریقہ اور دعاؤں کے ایسے کلمات سکھاتے تھے جن کے ذریعہ وہ دعائیں کریں تاکہ انہیں اپنی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بنا سکیں، کیونکہ صرف دعا ہی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ ہمارے اوپر وہ کام کرنا بھی ضروری ہے جس کی ہمیں دنیاوی اور اخروی فائدہ کے حصول کے لیے ذمہ داری  گئی ہے۔

مثال کے طور پر جو رزق حاصل کرنا چاہے، تو وہ اس کے حصول کے لیے کوشش کرے، اور اس معاملہ میں اللہ کی ذات پر اعتماد وبھروسہ رکھتے ہوئے اس کی جستجو میں محنت ومشقت کرے۔

چنانچہ بغیر کوشش کے صرف دعا کرنا تواکل (سستی) ہے توکل (بھروسہ) نہیں ہے، کیونکہ توکل تو جیسا کہ علماء کرام فرماتے ہیں وہ یہ کہ اسباب کو اپناتے ہوئے اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کرے، لہذا بندہ کو پوری طرح سے صرف دعا ہی پر بھروسہ نہیں کر لینا چاہیے، بلکہ اسے ایک عبادت اور اللہ کے قریب ہونے کا  ایک ذریعہ سمجھے، اور اپنے مولی اور پروردگار کی بارگاہ میں اپنی پوری محتاجی بیان کرے، اور اللہ عزوجل کی مدد کے بغیر اپنی حاجات وضروریات کے پورا نہ کرنے کی عاجزی کو ظاہر کرے۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day