1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. عنقریب تم میرے بعد خود غرضی دیکھو گے

عنقریب تم میرے بعد خود غرضی دیکھو گے

21 2020/06/17 2020/08/10
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ہم لوگوں سے ارشاد فرمایا:'' عنقریب تم میرے  بعد خود غرضی اورایسے امور دیکھو گے جنہیں تم براجانوگے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: '' تم ان (حاکموں) کا حق اداکرنا (یعنی ان کی اطاعت کرنا) اور اپنا حق اللہ سے مانگنا۔"

خود غرضی اور مفاد پرستی ایثار وہمدردی کی متضاد صفت ہے، خود غرضی ایک مذموم صفت اور بری عادت ہے، نیز ایک طرح سے اس بری عادت میں کفران نعمت یعنی نعمت کی ناشکری بھی ہے، جبکہ  یہ مذموم خصلت انسانیت اور فطرت کے بھی خلاف ہے۔

یہ (خود غرضی) بری طرح کا لالچ اور نفس پرستی ہے، چنانچہ یہ سبھی برائیوں کی جڑ ہے بھلے ہی کچھ وقت کے لیے اس میں اپنے نفس کی کچھ بھلائی ہو۔

اسے مفاد پرستی اور ہمارے جدید دور میں انانیت بھی کہا جاتا ہے، یہ لفظ انانیت عربی زبان میں ضمیر متکلم " أنا" کی طرف منسوب ہے جس کے معنی " میں" آتے ہیں، کیونکہ جس لالچی کے اندر بھی یہ مذموم صفت ہوتی ہے وہ ہر وقت یہی سوچتا ہے :"میں، میں، میری ذات میری ذات، اپنی ذات کے علاوہ مجھے کسی کی فکر نہیں، مجھے میری ذات سے ہی مطلب ہے، میں کسی کے بارے میں کیوں سوچوں۔"

نبی کریم ﷺنے اس حدیث پاک میں ہمیں اس کی خبر دی ہے کہ آپ ﷺکی حیات طیبہ کے بعد یہ خود غرضی ضرور پائے جائے گی، کیونکہ آپ ﷺکی حیات مبارکہ میں مہاجرین وانصار اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعلی اخلاق کے اندر جذبہ ایثار (یعنی اپنے آپ پر دوسرے کو ترجیح دینا) وقربانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، چنانچہ اللہ رب العزت نے انصار کے جذبہ ایثار کو قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے، اور بیان فرمایا ہے کہ کسی چیز کی شدید حاجت وضروت کے باوجود بھی انصاری صحابہ کرام وہ چیز اپنے مہاجرین بھائیوں کو دے دیتے اور اپنے آپ پر انہیں ترجیح دیتے تھے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ یہ عمدہ صفت صرف انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے اندر تھی اور مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اندر نہیں تھی، کیونکہ مہاجرین صحابہ کرام پہلے اسلام لائے تو ان کے اندر تو بدرجہ اولی یہ صفت موجود تھی، لہذا قرآن مجید میں انصار کی یہ صفت بیان ہونا اس بات کے ہرگز منافی نہیں ہے کہ اوروں کے اندر یہ صفت نہ ہو، اور خاص کر ان لوگوں کے اندر جنہیں صرف اسلام لانے کی وجہ سے ناحق ان کے گھروں اور مال ودولت سے بے دخل کر دیا گیا، جنہوں نے اپنے گھروں، مال ودولت اور جائیدادوں کو نبی کریم ﷺپر قربان کردیا اور آپ کی اور اسلام کی خاطر سب کچھ کو چھوڑ دیا۔

  

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day