(دوسروں کو ) جگہ دو، اللہ تمہیں (اپنی رحمت و جنت میں) جگہ دے گا

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: " تم میں سے کوئی بھی کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھے، بلکہ( ایک دوسرے کے لئے) کشادگی بناؤ اور (دوسروں کو ) جگہ دو، اللہ تمہیں (اپنی رحمت و جنت میں) جگہ دے گا :"                        (صحيح، رواہ احمد)

مسلمان (بلکہ ہر شخص) کو جن آداب کا ہر جگہ خیال رکھنا چاہیے اور انہیں لوگوں میں پھیلاناٍ چاہیے ان میں سے مجلس کے آداب بھی ہیں، اور یہ پانچ بنیادی اصولوں و ضوابط پر مبنی ہیں اور باقی سبھی فرعی قواعد انہیں کی شاخیں ہیں۔

اور مجلس کے ان آداب کے بارے میں جو بھی احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں وہ اللہ رب العزت کے اس فرمان کی تفصیل و بیان ہیں جو کہ سورہ مجادلہ میں ہے، چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

ترجمہ: اے ایمان والوں! جب تم سے مجلسوں میں جگہ دینے کے لئے کہا جائے تو جگہ دو، اللہ تمہیں جگہ دے گا، اور جب تم سے کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو، اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (سورة : مجادلة:11)

یہ آیت مبارکہ مجالس ذکر میں نازل ہوئی ہے، جیسا کہ حضرت قتادہ اور دیگر حضرات نے کہا ہے، چنانچہ جب صحابہ کرام کسی کو آتے دیکھتے تو وہ لوگ نبی کریم ﷺ سے دور ہو جانے کے ڈر سے ایک دوسرے سے مل کر بیٹھ جاتے تھے، تو اللہ تعالی نے انہیں دوسروں کے لئے جگہ دینے کا حکم دیا۔

اور اس کا معنی یہ ہے:  اے وہ لوگوں جو اللہ پر ایمان لائے جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے! جب تم سے مجلسوں میں کشادگی بنانے کے لئے کہا جائے تاکہ دوسرے لوگوں کے لئے جگہ ہو جائے، تو تم کشادگی بناؤ اور اپنے بھائیوں کو جگہ دو، کیونکہ اگر تم دوسروں کو جگہ دو گے تو اللہ تعالی تمہیں اپنی رحمت و جنت میں جگہ دے گا اور تمہارے لئے ہر چیز کو وسیع کر دے گا جس کی تم خواہش رکھتے ہو۔

 

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون