1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو مضبوطى سے پکڑے رہنا

مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو مضبوطى سے پکڑے رہنا

81 2020/06/17 2020/11/25
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: (لوگ (اکثر) رسول اللہ ﷺسے خیر (بھلائی) بارے میں دریافت کرتے تھے اور میں آپ ﷺسے شر (برائی) کے بارے میں پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، ایک روز میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر (برائی) میں مبتلا تھے تو اللہ تعالی ہمارے لیے یہ خیر(یعنی اسلام) لے آیا  تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا ؟  فرمایا:  ہاں! میں نے عرض کیا: پھر کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی ہو گی؟ فرمایا : ہاں! لیکن اس میں کدورت ہو گی(یعنی لوگوں کے دل پاک وصاف نہیں ہوں گے) میں نے عرض کیا وہ کدورت کیا ہو گی؟ فرمایا: ایسی قوم ہوگی جو میرے طریقہ کے خلاف طریقہ اختیار کر ے گی، اور میرے راستے کے علاوہ کسی اور کے راستے پر چلے گی، ان کی کچھ باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوں گی اور کچھ بری، عرض کیا: کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا؟ فرمایا:  ہاں! ایسے داعیان ہوں گے جو جہنم کے دروازوں کی طرف بلائیں گے جو ان کی بات مان لے گا وہ اسے جہنم میں دھکیل دیں گے!  میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم سے ان کے اوصاف بیان فرمادیجئے، فرمایا:  وہ ہماری ہی قوم سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان میں گفتگو کریں گے، میں نے عرض کیا:  اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ ﷺمجھے کیا حکم دیتے ہیں؟  فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو  مضبوطى سے پکڑے رہنا!  میں نے عرض کیا کہ:  اگر اس وقت ان کی کوئی جماعت ہی نہ ہو اور نہ ہی امام؟ فرمایا: تو ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جانا  اگرچہ تجھے کسی درخت کی جڑ چبا کر ہی گزارا کرنا پڑے یہاں تک کہ تجھے اسی حالت میں موت آ جائے۔"

حدیث پاک کی ابتدا میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺسے اکثر شر اور برائی کے بارے میں پوچھا کرتے تھے جبکہ دوسرے لوگ اکثر خیر وبھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے، اور اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ میں برائی کے بارے میں اس خوف کی وجہ سے پوچھتا تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ میں برائی میں مبتلا ہو جاؤں، اس سے مجھے پریشانی لاحق ہو اور پھر اس سے نکلنا ہی میرے لیے دشوار ہو جائے، کیونکہ جب انسان کو پہلے ہی سے برائی کا پتہ چل جاتا ہے تو وہ پہلے ہی سے اس کا سامنا کرنے، اس سے بچنے اور چھٹکارا پانے کی اچھی طرح سے تیاری رکھتا ہے، اور عقلمند وہ ہے جو برائی کا علم اس لیے حاصل کرتا ہے تاکہ اس سے بچے اور محتاط رہے، ناکہ اس لیے کہ وہ اس برائی کو کرے، اور قاعدہ ہے کہ برائی کی معرفت بھلائی کی معرفت پر مقدم ہے، کیونکہ مصالح کے حصول کے مقابلے میں مفاسد سے بچنا اور ان کو ٹالنا زیادہ ضروری ہے جیسا کہ علمائے اصول فقہ فرماتے ہیں۔

چنانچہ حضرت حذیفہ کو جب ان کے تمام سوالات کے جوابات مل گئے اس کے بعد سب سے اہم سوال کے ذریعے نبی کریم ﷺگفتگو شروع فرمائی کیونکہ یہی سب سے اہم سوال تھا اور سابقہ تمام سوالات سے مقصد بھی یہی تھا، چنانچہ آپ نے نبی کریم ﷺسے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اگر وہ برائی (کا وقت) مجھے پالے( یعنی اگر وہ برائی میری زندگی میں پیش آ جائے) تو آپ میرے لیے کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟ تو اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا: "مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو مضبوطی سے پکڑے رہنا۔" یعنی جو عمدہ اخلاق وعادات اور بہتر سلوک وہ اختیار کریں وہی تو بھی کرنا اور عبادات ومعاملات میں انہیں کے طور طریقے پر چلنا۔

 مسلمانوں کی جماعت وہ لوگ ہیں جو اسلام کو اس کے مصادر اصلیہ سے پہچانیں اور ایسے وقت میں بھی کتاب وسنت پر مضبوطی عمل کریں جبکہ اسلام کے ماننے اور اس پر عمل کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائے جیسا کہ ابتدائے زمانے میں تھی۔

انسان اس جماعت کو بمشکل پہچان پائے گا کیونکہ ان لوگوں کی تعداد بہت کم ہوگی اور وہ کسی ایک جگہ میں منحصر ہوں گے، شاید کہ وہ جگہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہو جیسا کہ مسلم وغیرہ کے حدیث صحیح میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: بے شک اسلام شروع میں اجنبی تھا اور جلد دوبارہ اجنبی ہوجائے گا، اور دو مسجدوں (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں اس طرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں سمٹ جاتا ہے۔

اور مسلمانوں کا امام اس دن وہ ہوگا جو ان میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اور سب سے زیادہ پرہیز گار ہوگا جسے وہ آپس میں اتفاق واتحاد اور رضا سے  اپنا  والی وامیر اور حاکم منتخب کریں گے۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day