1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے

کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے

63 2020/06/25 2020/10/28
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: " کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔"

محاسن اخلاق میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان ہر اس چیز سے اپنی نگاہ نیچی رکھے جسے دیکھنا اس کے لیے جائز نہیں ہے، ایسا کام کرنے سے بچے جس کی اس کے لیے اجازت نہیں ہے، اور ایسی چیز کے ذکر کرنے سے بچے جو اس کے لیے مناسب نہیں ہے، اس معاملے میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔

یہ حدیث پاک صرف عورت کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے، لیکن رسول اکرم ﷺ نے اس نہی میں عورت کو مخاطب فرمایا ہے، کیونکہ عورتیں اکثر جب ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو وہ بنا شرم وحیا کے ہی ایک دوسرے کے سامنے کپڑے اتار دیتی ہیں اور اپنے اور اپنے شوہروں کے مابین نجی معاملات کو بیان کرتی ہیں اور بہت سے پوشیدہ اسرار وامور کو ظاہر کر دیتی ہیں چنانچہ بسا اوقات کچھ عورتیں دوسری عورتوں کے بارے میں وہ سب کچھ جان جاتی ہیں جو سالوں سال ساتھ رہنے کے باوجود ان کے شوہر بھی نہیں جان پاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس نہی سے عورت کو مخاطب فرمایا، تاکہ انہیں اس  بری عادت سے روکیں شاید کہ وہ اس برے شرمناک سلوک سے باز آ جائیں۔

تمام محارم سے نگاہ نیچی رکھنا واجب ہے، چنانچہ بنا کسی سخت ضرورت کے عورت کو نہ تو مردوں کے ستر  کو دیکھنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی عورتوں کے، کیونکہ ستر اس حصہ کو کہتے ہیں جس کا چھپانا ضروری ہے، ہر مرد وعورت اس کی آزمائش میں پڑ سکتے ہیں، لہذا بنا کسی حاجت شرعیہ کے کسی بھی مسلمان مرد وعورت کو نہ تو مسلمان مرد وعورت کا ستر دیکھنا جائز ہے اور نہ ہی غیر مسلمان مرو وعورت کا۔

پس یہ کتنی عظیم وصیت ہے جو تمام مردوں اور عورتوں کی عزت آبرو کی حفاظت کرتی ہے اور معاشرے کو بداخلاقی اور بد عنوانی سے بچاتی ہے۔

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day