1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے

تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے

60 2020/06/23 2020/11/24
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : English العربية हिन्दी

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ کی ایک عورت پر نظر پڑ گئی تو آپ اپنی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ اپنے ایک چمڑے کو دباغت دینے کے لیے مل رہی تھیں،چنانچہ آپ ﷺ نے (ان سے گھر میں ) اپنی ضرورت پوری فرمائی، پھر اپنے صحابہ کی طرف تشریف لے گئے، اور فرمایا :

 "بے شک ( فتنے میں ڈالنے کے حوالے سے ) عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان ہی کی صورت میں مڑکر واپس جاتی ہے، تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، بلاشبہ یہ چیز اس خواہش کو دور کر دے گی جو اس کے دل میں (اس عورت کو دیکھ پیدا ہوئی ) ہے "۔

نبی کریم ﷺ خود اپنے عمل کے ذریعے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بہترین مثال قائم فرماتے تھے، چنانچہ آپ انہیں بتاتے کہ اللہ کے کس طرح ڈرنا چاہیے اور ایک مسلمان اس فتنے سے کیسے بچے کہ جس میں پڑنے کا اسے اندیشہ ہو۔

 اسی غرض کے لیے نکاح کو مشروع قرار دیا گیا، چنانچہ جسے شادی کی سخت ضرورت ہو اور زنا میں پڑنے کا اندیشہ ہو اور بیوی کے نفقہ پر قدرت رکھتا ہو تو اسے فوراً شادی کرنا واجب ہے، اور جسے شادی کی ضرورت ہو اور نفقہ دینے پر بھی قدرت رکھتا ہو لیکن زنا کا اندیشہ نہ ہو تو ایسے شخص کے لیے شادی کرنا مستحب وبہتر ہے، کیونکہ ایسا شخص ہر وقت محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعالی مردوں وعورتوں دونوں کو نگاہ نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے، لہذا جب مرد کسی عورت کو دیکھے تو نگاہ نیچی کر لے قبل اس کے کہ شیطان اسے ورغلائے، کیونکہ اگر وہ شیطان کے بہکاوے میں آگیا اور اس نے پہلا قدم اس کی جانب اٹھا دیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ شیطانی ارادے کو انجام دیئے بغیر واپس نہ آ سکے۔

اللہ رب العزت نے مردوں اور عورتوں کے لیے ایک حد متعین فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں آپس میں غیر شرعی اور ناجائز اختلاط اور ملنے سے منع فرمایا ہے تاکہ کسی طرح کا کوئی فتنہ نہ ہو، اور مومن پاک اور صاف رہے اور خواہشات نفس کی اتباع اور شیطانی چالوں سے بچا رہے، بے شک یہ حد دین اور عزت وآبرو کو محفوظ رکھنے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔

نگاہ کو آزاد رہنے دینے کا ایک برا اثر یہ بھی ہے کہ اس سے دل اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے اور وہ مستقل طور پر غم و حسرت کا شکار ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ مرتے دم تک رہتا ہے۔

اللہ پاک بندہ کو اس کے عمل کی جنس سے جزا عطا فرماتا ہے اور اسے اس کے عمل سے زیادہ دیتا ہے، چنانچہ جو اللہ کے لیے کسی چیز کو چھوڑتا ہے اللہ اسے اس سے بہتر جزا عطا فرماتا ہے، لہذا جو ممنوعہ یعنی اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اپنی نگاہ جھکا لیتا ہے تو اللہ اس کے لیے حکمت وبصیرت، ایمان ویقین، علم وعرفان اور فہم وفراست کے دروازے کھول دیتا ہے جن سے اس کا دل منور وروشن ہو جاتا ہے اور پھر وہ اپنے دل کی آنکھوں دلوں کے حال پتہ کر لیتا ہے۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day