1. مضامين
  2. دن اور رات کی ایک ہزار (1000) سنتیں
  3. آپ کیسے اس مقام تک پہنچنے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کرنے لگے

آپ کیسے اس مقام تک پہنچنے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کرنے لگے

189 2019/12/15 2020/07/09
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Deutsch Español Italiano Indonesia Русский 中文 Português Nederlands हिन्दी 日本の

الحمد لله الرحيم الغفار، الكريم القهار، مقلب القلوب والأبصار،عالم الجهر والأسرار، أحمده حمداً دائماً بالعشي والأبكار، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، شهادة تنجي قائلها من عذاب النار، وأشهد أن محمداً نبيه المختار صلى الله عليه وأهله، وأزواجه، وأصحابه الجديرين بالتعظيم والإكبار، صلاة باقية بقاء الليل والنهار.

تمام خوبیاں اللہ ہی کو ہیں جو بڑا رحمت والا، بخشنے والا، بہت زیادہ کرم فرما، سب پر غالب، دلوں اور نگاہوں کو جس طرف چاہے پھیرنے والا، کھلے اور چھپے کا جاننے والا ہے، میں صبح و شام اس کی دائمی بڑائی بولتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو اپنے کہنے والے کو دوزخ کے عذاب سے بچائے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ  اسکے پسندیدہ نبی ہیں اللہ کی رحمت و سلامتی ہو ان پر اور انکے گھر والوں، ازواج مطہرات، اور آپکے صحابہ کرام پر جو عزت و احترام کے والے ہیں، ایسی رحمت جو باقی رہے گی جب تک کہ دن و رات باقی ہیں۔

حمد و صلاة کے بعد!

ايك مسلمان کو روز مرہ کی زندگی جس بات كا سب سے زیادہ اهتمام كرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام حرکات،سکنات، اقوال اور افعال میں اللہ کے رسول- اللہ کی رحمت و سلامتی ہو ان پر - کی سنت پر عمل کرے یہاں تک کہ صبح سے شام تک اپنی ساری زندگی کو اللہ کے رسول ﷺ کے مطابق پر ڈھال لے۔

حضرت ذو النون مصری  فرما تے ہیں: [ اللہ عز وجل سے محبت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اس کے محبوب ﷺ کے اقوال ،افعال، اوامر اور سنتوں میں انکی پیروی کرنا ہے]۔

  ] اے محبوب! آپ فرما دو کی اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری فرمانبردار کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے[۔

حضرت حسن بصری فرما تے ہیں: اللہ سے محبت کی نشانی اس کے رسولﷺ کی سنت پیروی کرنا ہے۔

اور بے شک ( الله کے هاں )مومن کا مقام ومرتبہ اللہ کے رسولﷺ کی پیروی و فرمانبرداری کے حساب سے ہوتا ہے تو وہ جتنا زیادہ سنتوں کی پیروی اور ان پر عمل کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کے نزدیک معزز و بلند ہوگا۔

اسی وجہ سے میں نے یہ مختصر بحث لکھی تاکہ مسلمانوں کی روز مرہ کی زندگی میں، انکی عبادتوں، انکے سونے ، انکے کھانے اور پینے ، انکے لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے، انکے پاک ہونے، انکے گھر میں داخل ہونے اور نکلنے، انکے لباس پہنے یہاں تک کہ انکی تمام حرکات و سکنات میں اللہ کے رسول- صل اللہ علیہ و سلم- کی سنت زندہ ہو۔

ذرا سو چیئے کہ اگر ہم میں سے کسی کا کچھ مال گم ہو جائے تو جب تک وہ مل نہ جائے تب تک اسکی تلاش میں اور اسے ڈھونڈنے میں بہت زیادہ کوشش اور محنت و مشقت کرتے ہیں، لیکن ہماری  یومیہ زندگی میں کتنی سنتیں ہم سے چھوٹیں! تو کیا کبھی ہم ان پر غمگین و رنجیدہ ہوئے؟ کیا ہم نے اپنی عملی زندگی میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کی؟؟!!!

یقیناً جن مشکلوں اور پریشانیوں کو ہم اپنی زندگی میں جھیلتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم درہموں اور دناروں کو سنت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جسکی دلیل یہ ہے کہ اگر لوگوں سے کہا جائے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی سنتوں میں سے کسی ایک سنت پر عمل کرے گا تو اسے اتنا اتنا مال دیا جائے گا، تو لوگ صبح سے شام تک اپنی زندگی کے سارے کاموں میں سنت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آئیں گے کیونکہ ہر سنت پر عمل کرنے کے بدلے انہیں کچھ مال ملے گا، لیکن اے انسان! جب تجھے قبر میں رکھ دیا جائے گا اور تجھ پر مٹی ڈال دی جاۓ گی تو کیا یہ مال تیرے کچھ کام آ ئے گا؟؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے)۔

اور اس بحث میں مذکور سنتوں سے مراد وہ سنتیں ہیں جنکے کرنے پر کرنے والے کو ثواب ملتا ہے لیکن چھوڑنے پر کوئی گناہ نہیں ملتا ہے۔

اور مجھے معلوم ہوا کہ ہر شخص اگر وہ چاہے تو اپنی زندگی کے معمولات میں روز مرہ کی سنتوں میں سے کم از کم ایک ہزار سنتوں پر عمل کر سکتا ہے، اور اس رسالے یا کتابچہ کا مقصد یہی ہے کہ ان ایک ہزار سے زائد روز مرہ کی سنتوں پر عمل کرنے کا آسان سے آسان طریقہ بیان کر دیا جائے۔

اگر مسلمان روزانہ ایک ہزار سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرے، تو وہ اس طرح ایک مہینے میں تیس ہزار سنتوں پر عمل کر سکتا ہے، تو جو ان سنتوں کو نہیں جانتا یا جانتا ہے لیکن ان پر عمل نہیں کرتا ذرا سوچیں کہ اس شخص نے کتنے درجات اور کتنی نیکیاں برباد کردیں اور بے شک وہ واقعی بہت بڑا محروم اور کم نصیب ہے۔

 

سنت پر عمل کرنے کے بہت سارے فائدے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں : 

1- اللہ عزوجل کی محبت کے درجہ تک پہنچنا یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنے اس مومن بندہ سے محبت کرتا ہے۔

2- فرض نمازوں میں جو کمی واقعی ہوتی ہے وہ انکے ذریعہ پوری پو جاتی ہے۔

3- بدعت( سنت کے خلاف کام) میں مبتلا ہونے سے حفاظت ملتی ہے.

4- سنت پر عمل کرنا در حقیقت اللہ تعالی کی نشانیوں کی تعظیم کرنا ہے۔

تو اے امت مسلمہ! اپنے رسول ﷺ کی سنتوں میں اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! اپنی عملی زندگی میں ان پر عمل کرکے انہیں زندہ کرو، اگر تم نہیں کروگے تو پھر کون کرے گا؟ وہی تو اللہ کے رسول ﷺ سے سچی اور کامل محبت کی دلیل اور انکی سچی پیروی و فرمانبرداری کی نشانی ہے۔


 

اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day