1. مضامين
  2. دن اور رات کی ایک ہزار (1000) سنتیں
  3. وضو کی سنتیں

وضو کی سنتیں

333 2019/12/17 2020/07/16
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Deutsch Español Italiano Indonesia Русский 中文 Português Nederlands हिन्दी 日本の

وضو کی سنتیں

1-  وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا۔

2- وضو کے شروع میں تین بار گٹوں تک ہاتھ دھونا۔

3- چہرہ دھونے سے پہلے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا۔

4- داہنے ہاتھ سے ناک میں پانی چڑھانا: کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ: " ( پھر (اللہ کے رسول ﷺ) نے اپنے گٹوں تک ہاتھ دھلے، پھر کلی کیاور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑی یا صاف کی، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا "                                                       (بخاری اور مسلم)

5- جو روزہ سے نہ ہو اسکے لئے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ ( زیادتی) کرنا، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ :" اور ناک میں پانی چڑھانے میں زیادتی کرو اگر تم تم روزہ سے نہ ہو "

( نسائی، ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ)

ٍ       * کلی کرنے میں زیادتی کرنے کا مطلب یہ ہے: کہ پورے منہ میں پانی اچھی طرح سے گھمائے (یعنی پورے منہ کو اچھی طرح سے صاف کرے)۔

* ناک میں پانی چڑھانے میں زیادتی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ : ناک کے آخری حصے تک پانی کو کھینچے۔

6-  ایک ہی چلو پانی سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا: کہ دونوں چیزیں الگ الگ پانی سے نہ کرے، (کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ) " پھر انہوں نے ( پانی میں) ہاتھ ڈالا، اور ایک ہی چلو)( پانی) سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا"۔                                        ( بخاری اور مسلم)

7- کلی کرتے وقت مسواک کرنا: کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ: " اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں انہیں ہر وضو کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا"۔                 ( احمد بن حنبل اور نسائی)

8- چہرہ دھوتے وقت گھنی داڑھی کا خلال کرنا: ( اللہ کے رسولﷺ وضو کرتے وقت اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے)                                                                        (ترمذی)

9-  سنت طریقہ پر سر کا مسح کرنا:

* سر پر مسح کرنے کا طریقہ یہ ہے: سر کے سامنے والے حصہ سے ہاتھ پھیرنا شروع کرے اور آخری حصہ گدی تک لے جائے، اور پھر دوبارہ سامنے کی طرف( ہاتھ پھیرتا ہوا) لائے.

فرض اور ضروری مسح تو صرف اتنا ہے کہ پورے سر پر جس طرح چاہے مسح کرلے( یعنی پانی سے تر ہاتھ پھیر لے) کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ :" اللہ کے رسولﷺنے اپنے سر کا مسح کیا تو دونوں ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پھر پیچھے سے آگے لے گئے"۔                          (بخاری اور مسلم)

10-  ہاتھ اور پیر کی انگلیوں کا خلال کرنا ( یعنی ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے بیچ انگلیاں پھیرنا) کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ :" اچھی طرح سے وضو کرو اور انگلیوں کا خلال کرو"۔

( نسائی، ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ)

11- " تیامن" یعنی ہاتھوں اور پیروں میں سے پہلے داہنے  ہاتھ پاؤں کو دھونا، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ " اللہ کے رسولﷺکو نعلین شریف ( جوتے یا چپل) پہننے اور پاکی حاصل کرنے میں داہنی طرف سے شروع کرنا پسند تھا"۔                                          ( بخاری اور مسلم)

12- چہرہ، دونوں ہاتھوں اور پیروں کو ایک بار سے زیادہ تین بار تک دھونا۔

13- وضو کرنے کے بعد کلمہ شہادت پڑھنا ( أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله )

[ ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں]۔

اسکے پڑھنے کا فائدہ یہ ہے کہ : اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہو۔                                                            ( مسلم)

14- گھر سے وضو کر کے نکلنا: اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا :" جو شخص گھر ہی سے پاک ہوکر اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کو ادا کرنے کے لئے اللہ گھروں میں سے کسی گھر ( یعنی کسی مسجد ) کی طرف نکلے تو اسکے دونوں قدم چلنا اس طرح ہونگے کہ ایک قدم اس کا ایک گناہ مٹائے گا اور دوسرا قدم اس کا ایک درجہ بڑھائے گا۔                                                              (مسلم)

15- ملنا یا رگڑنا: یعنی پانی کے ساتھ ساتھ یا پانی ڈالنے کے بعد عضو پر ہاتھ پھیرنا۔

16- پانی کے استعمال میں میانہ روی برتنا: ( یعنی ضرورت کے حساب سے ہی پانی کھرچ کرنا) کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ : اللہ کے رسولﷺ ایک مد پانی سے وضو کرتے تھے۔

17- چاروں اعضاء یعنی دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں میں واجب یا ضروری جگہ سے کچھ زیادہ دھونا؛ کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ : " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وضو کیا تو ہاتھ بازؤں تک، اور پاؤں پنڈلیوں تک دھوۓ، اور پھر ارشاد فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسولﷺکو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا "۔                                                                                       ( مسلم)

18- وضو کرنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا، کیونکہ اللہ کے رسول- صل اللہ علیہ و سلم - نے ارشاد فرمایا کہ :" جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعت نماز پڑھے اور دونوں کے درمیان اپنے آپ سے بات چیت نہ کرے ( یعنی دنیاوی سوچ و فکر میں نہ پڑے) تو اسکے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے"۔

 (امام بخاری اور مسلم دونوں نے اسے روایت کیا ہے، مگر امام مسلم نے عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے اس میں یہ ہے کہ:" اسکے لئے جنت واجب ہو جائے گی ")۔

19-  اچھی طرح وضو کرنا: یعنی ہر عضو کو اس طرح دھوئے جیسا کہ اس کا حق ہے، سب اعضاء کو اچھی طرح اور پورے طور پر دھوئے۔

مسلمان دن ورات میں کئی بار وضو کرتا ہے، کچھ پانچ بار اور کچھ اس سے زیادہ بار اگر چاشت یا تہجد کی نماز بھی پڑھے تو، تو مسلمان جتنی بار وضو کرتا ہے اگر ان سنتوں کا خیال کرے اور ان پر عمل کرے تو وہ اس طرح سے بڑا اجر و ثواب حاصل کر سکتا ہے۔

وضو کے وقت ان سنتوں پر عمل کرنے کا فائدہ:

یہ ہے کہ وہ شخص اللہ کے رسولﷺکے اس فرمان اور خوشخبری میں شامل ہو جائے گا : " جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا تو اسکے گناہ اسکے پورے جسم سے نکل جائیں گے یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی"۔   

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day