دن اور رات میں پڑھے جانے والی نفل نمازیں / یا نوافل

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Deutsch Español Italiano Indonesia Русский 中文 Português Nederlands हिन्दी 日本の

سنت مؤکدہ کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :

" جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالی کے لیے  ہر روز فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعت نفل نماز اپنی طرف سے ادا کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے یا اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے"                                                                                (مسلم)

اور وہ سنتیں یہ ہیں : چار رکعت ظہر کی نماز سے پہلے اور دو رکعت اسکے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کی نماز کے بعد اور دو رکعت فجر کی نماز سے پہلے۔

* میرے پیارے بھائی! کیا جنت میں گھر ہونے کی تمہیں چاہت نہیں ہے؟!!! اگر ہے تو نبی کریم  ﷺ کی اس نصیحت کی حفاظت کر اور فرض نماز کے علاوہ بھی بارہ رکعت نماز پڑھ۔

1 - چاشت کی نماز :

یہ[360] صدقوں کے برابر ہے، اس لئے کہ انسان کے جسم میں[360] ہڈیاں یا جوڑ ہیں، اور روزانہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے  ایک صدقہ کرنا  ضروری ہے تاکہ اس نعمت کا شکریہ ادا ہو جائے، لیکن چاشت کی صرف دو رکعت نماز ان تمام کے بدلے میں کافی ہو جائیں گی.

اس نماز کا فائدہ یہ ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : " تم میں سے ہر شخص کے ذمہ اس کے جسم کے ایک ایک جوڑ کے شکرانے میں روزانہ صبح ایک صدقہ ہوتا ہے، ہر بار" سبحان اللہ" کہنا ایک صدقہ ہے، بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے، بُرائی سے روکنا صدقہ ہے، اور ہر جوڑ کے شکر کی ادائیگی کیلیے چاشت کے وقت دو رکعت پڑھنا کافی ہو جاتا ہے"۔

اس حدیث میں لفظ" سُلامى" آیا ہے جس کا معنی جوڑ ہے۔

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا :

" مجھے میرے خلیل ﷺ نے تین  چیزوں کی وصیت کی:  ایک یہ کہ ہر ماہ تین دن کے روزے رکھوں،دوسری یہ کہ چاشت کی نماز پڑھوں، اور تیسری یہ کہ وتر پڑھ کر سویا کروں"۔       (بخاری ومسلم)

إشراق یا چاشت کی نماز کا وقت:  سورج نکلنے کے پندرہ منٹ بعد شروع ہوتا ہے، اور ظہر کی نماز سے پندرہ منٹ پہلے تک رہتا ہے۔

اسکے پڑھنے کا سب سے افضل وقت: جب سورج کی تپش اور حرارت خوب تیز اور زیادہ ہو جائے.

اسکی تعداد:  کم از کم دو رکعت، زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیادہ کی کوئی حد نہیں۔

2- ظہر کی سنتیں :

ظہر کی سنتیں جو نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہیں چار ہیں، جبکہ جو ظہر کی فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں وہ دو رکعت ہیں۔

3 - عصر کی سنتیں :

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : " اللہ اس شخص پر رحم کرے جو عصر سے پہلے چار رکعت پڑھے"۔                                                                                     (ابو داؤد و ترمذی)

4- مغرب کی سنتیں :

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : " مغرب سے پہلے نماز پڑھو، تیسری بار میں ارشاد فرمایا :"  اس کے لئے جو  پڑھنا چاہے "۔                                                                    (بخاری)

5- عشا کی سنتیں :

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، اور تیسری بار میں یہ بھی ارشاد فرمایا : "  اس کے لئے جو پڑھنا چاہے"۔                                                                                               ( بخاری و مسلم)

پچھلا مضمون اگلا مضمون