لوگوں سے ملاقات كرنے کی سنتیں

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Deutsch Español Italiano Indonesia Русский 中文 Português Nederlands हिन्दी 日本の

1= سلام کرنا:

٭اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا گیا کہ اسلام میں کونسا عمل سب سے بہتر ہے ؟ تو آپﷺ نے  ارشاد فرمایا :

" کھانا کھلانا اور ہر جاننے اور نہ جاننے والے کو سلام کرنا"   

    ( بخاری و مسلم)

٭’’ایک آدمی اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا : السلام علیکم [آپ پر سلامتی ہو ] تو آپﷺ نے اس کا جواب دیا ، پھر وہ بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے دس نیکیاں ہیں، پھر ایک اور دوسرا آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم و رحمۃ اللہ[آپ پر سلامتی ہو اور  اللہ کی رحمت ہو]، تو آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے لئے بیس نیکیاں ہیں، پھر ایک اور تیسرا آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ[آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں] تو آپﷺ نے اس کا جواب دیا پھر وہ بھی بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے لئے تیس نیکیاں ہیں"۔

( ابو داؤد نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے)

آپ غور فرمائیں، اللہ آپ کی حفاظت فرمائے ! جو شخص پورا سلام نہیں کرتا وہ کتنا زیادہ اجر و ثواب ضائع کرتا ہے، اگر وہ پورا سلام ( السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ) [آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں] کرے تو اسے تیس نیکیاں ملتی ہیں اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے، تو گویا ایک مرتبہ پورا سلام کہنے سے (300) نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور کبھی کبھی ایک نیکی کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔

لہذا اے میرے پیارے بھائی! اپنی زبان کو پورا سلام یعنی (وبرکاتہ تک) کہنے کا عادی بناؤ تاکہ تمہیں اتنا زیادہ  اجر و ثواب حاصل ہو سکے۔

 مسلمان دن اور رات میں کئی بار سلام کرتا ہے ، جب مسجد میں داخل ہو تو، مسجد سے نکلے تو، اسی طرح گھر میں آتے ہوئے اور پھر باہر جاتے ہوئے بھی سلام کرتا ہے۔

اور اے میرے پیارے بھائی! یہ بات نہ بھولیں کہ( جس طرح کسی سے ملاقات کے وقت پورا سلام کرنا سنت ہے اسی طرح) کسی جدائی کے وقت بھی پورا سلام کرنا سنت ہے،کیونکہ حدیث پاک میں ہے: " تم میں سے کوئی شخص جب کسی مجلس میں جائے تو سلام کرے اور جب وہاں سے جانا چاہے تو بھی سلام کرے کیونکہ ملاقات جدائی سے زیادہ سلام کا حق نہیں رکھتی"                   ( ابوداؤد وترمذی)

 انسان اگر مسجد اور گھر کو جاتے اور ان سے آتے وقت سلام کا اہتمام کرے تو وہ دن اور رات میں بیس مرتبہ سلام کر سکتا ہے، پانچ مرتبہ گھر سے جاتے ہوئے ، پانچ مرتبہ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے ، پانچ مرتبہ مسجد سے نکلتے ہوئے اور پانچ مرتبہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے، اور  وہ کام کے لیے بھی کئی بار باہر نکلتا ہے، راستے میں لوگوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے اور اسی طرح فون پر بھی لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اس طرح سے وہ ان بیس بار سے بہت زیادہ اس سنت پر عمل کر سکتا ہے۔

2= چہرے پر مسکراہٹ لانا:

چنانچہ اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا :

" نیکی کے کسی کام کو حقیر مت سمجھو ،اگرچہ تم اپنے بھائی کو مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہی ملو"۔                                                                                                   (مسلم)

3= مصافحہ کرنا:

کیونکہ اللہ کے نبی ﷺنے ارشاد فرمایا :

" دو مسلمان ملاقات کے وقت جب مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں"۔                                                      ( ابو داؤد ، ترمذی  اور ابن ماجہ)

امام نووی نے ارشاد فرماتے ہیں : ہر ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب ہے۔

تو اے میرے پیارے بھائی! جب بھی کسی مسلمان سے آپ کی ملاقات ہو تو چہرے پر مسکراہٹ رکھتے ہوئے اسے سلام کرکے مصافحہ کریں، تو اس طرح سے ایک ہی وقت آپ تینوں سنتوں پر عمل کر سکتے ہیں۔

4= اچھی بات کرنا:

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

﴿ وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هيَ اَحْسَنُ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنهم اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا﴾ ( الإسراء : 53)

 [ اور میرے بندوں سے فرماؤ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو بےشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈال دیتا ہے بےشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے]۔

اور  اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے :

 اچھی بات کرنا صدقہ ہے"۔  

  ( بخاری و مسلم)

* اچھی بات میں: ذکر کرنا، دعا کرنا، سلام کرنا، برحق تعریف کرنا، اچھے اخلاق، عمدہ آداب اور اچھے کام سب شامل ہیں۔

* اچھی بات انسان پر جادو جیسا عمل کرتی ہے اور اسے راحت و اطمینان پہنچاتی ہے۔

* اچھی بات اِس کی دلیل ہوتی ہے کہ اس انسان کا دل نورِ ایمان اور ہدایت و رہنمائی سے بھرا ہوا ہے۔

لہذا  اے میرے عزیز بھائی! تجھے چاہیے کہ صبح سے لیکر شام تک تو اپنی پوری زندگی کو اچھی بات سے مزین کرے، تیری بیوی ،تیرے بچے، تیرے پڑوسی، تیرے دوست، تیرے ملازمین یہاں تک وہ تمام لوگ جن سے تیرا تعلق ہے، ان سب کو اس کی ضرورت ہے کہ تو ان سے اچھی بات کرے.

پچھلا مضمون اگلا مضمون