1. مضامين
  2. دن اور رات کی ایک ہزار (1000) سنتیں
  3. اقامت کی سنتیں

اقامت کی سنتیں

200 2019/12/18 2020/11/25
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Deutsch Español Italiano Indonesia Русский 中文 Português Nederlands हिन्दी 日本の

اسی طرح مذکورہ پہلی چار سنتیں اقامت کے وقت بھی کی جائیں گی جیسا کہ" اللجنة الدائمة للبحوث العلمية و الإفتاء" کے فتوے میں صادر ہوا ہے، تو اس طرح ہر نماز کی اقامت کے وقت ادا کی جانے والی سنتوں کی کل تعداد بیس ہے.

اذان اور اقامت میں آنے والے امور کی رعایت کرنا مستحب و پسندیدہ ہے تا کہ إن شاء الله اللہ تعالی کی مکمل اطاعت و پیروی ہو جائے اور اسکی جانب سے مکمل ثواب ملے.

1 - اذان اور اقامت کے وقت قبلہ رخ ہونا۔ 

2 - حالت قیام ( کھڑے ہونے کی حالت) میں ہونا۔

3 - اذان دیتے وقت پاک ہونا، لیکن اقامت کے صحیح ہونے کے لئے تو پاکی کا ہونا ضروری ہے جبکہ امید و (توسل) مقصود نہ ہو۔

4- اذان اور اقامت،  اور خاص طور پر اقامت اور نماز کے درمیان بات چیت نہ کرنا،.

5- اقامت کے درمیان ٹھہراؤ بنائے رکھنا۔

6- اذان میں جہاں جہاں کلمہ جلالت "اللَّهُ" آئے اسکے حرف " الف" اور "ها" کو صاف صاف اور واضح طور طریقے سے پڑھنا، لیکن اقامت میں ٹھوڑا جلدی اور تیزی سے بولنا چاہیے۔

7- اذان دیتے وقت دونوں کانوں میں انگلیاں رکھنا۔

8- اذان میں آواز کو کھینچنا اور بلند کرنا، اور اقامت میں اس سے کم ( کھینچنا اور کم بلند) کرنا۔

9- آذان اور اقامت کے درمیان کچھ  وقت کا فاصلہ رکھنا: روایتوں میں آیا ہے کہ دونوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہو کہ دو رکعت نماز پڑھ لی جائے، یا سجدے کرلیئے جائیں، یا تسبیح پڑھ لی جائے، یا بیٹھا جا سکے یا پھر بات چیت ہو سکے، اور مغرب کی نماز میں اتنے وقت کا فاصلہ کافی ہے کہ سانس لی جا سکے، اور صبح یعنی فجر کی نماز میں ان دونوں کے درمیان بات چیت کرنا مکروہ یعنی نا پسندیدہ ہے جیسا کہ روایتوں میں آیا ہے، اور فقہاء نے ارشاد فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان ایک قدم چلنے کی مقدار برابر  وقت کا فاصلہ بھی کافی ہوگا، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں وسعت و نرمی اور (لوگوں پر) آسانی ہے .

10- اذان - خبر دینے کے لئے ہو یا نماز کے لئے- اور اقامت دونوں کے سننے والے کے لئے یہ مستحب اور پسندیدہ ہے کہ جن الفاظ کو وہ سنے انکو دوہرائے، لیکن جب ( قَدْ قامتِ الصلاةُ) [ نماز قائم/ یا کھڑی ہو چکی] سنے تو (لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ) [ ہر طاقت اور قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے]۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day