تو تم میری سنت کو لازم پکڑو

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ایک دن ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

یہ ایک جامع وصیت ہے، اس پر بہت سے احکام مرتب ہوتے ہیں جن کو فقہاء کرام نے تفصیل سے بیان کیا ہے، اس میں مستقبل کی ایسی خبریں ہیں جن سے ہر مسلمان کو عبرت حاصل کرنا چاہیے اور اگر یہ اس کے زمانے میں ظاہر ہو جائیں تو ان کا سامنا کرنے کے لئے اور قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ کی مختصر و بلیغ نصیحتیں ہوتی تھیں، جن کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آسانی سے یاد کر لیتے تھے اور ان کے مفاہیم و مقاصد کو با آسانی سمجھ لیتے تھے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کو جوامع الكلم عطا ہوئے تھے اور انہیں اللہ کا حکم تھا کہ وہ لوگوں کی عقلوں کی حیثیت سے ہی بات چیت کریں، اور ان سے ایسی بات کریں جو ان کے لئے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں کو سکون و چین بخشے۔

ان صحابی کا یہ بات کہنے " یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟" کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ گویا کہ وہ کچھ اور نصیحت سننا چاہتے تھے، یا شاید وہ یہ بات سمجھ گئے تھے کہ اگر اس وصیت کی تفصیل کردی جائے تو اس کے اندر انہیں بہت سی نیک باتیں اور بھلائیاں مل جائیں گی جنہیں وہ کبھی کھونا نہیں چاہتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کی عادت مختصر بات کرنا ہے، لیکن یہ مقام تو تفصیل کا ہے، چنانچہ انہیں اس بات کا ڈر ہوا کہ نبی کریم ﷺ کہیں اس وصیت کے بعد خاموش نہ ہو جائیں، کیونکہ انہیں آپ ﷺ کی نصیحت بہت پسند آئی، ان کے دل اللہ کے ذکر سے کانپ اٹھے، انکی آنکھیں خشیت الہی سے آبدیدہ ہو گئیں، تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : " میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو"۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون