دنیا سے بے رغبت ہو جا، اللہ تجھ سے محبت کرنے لگے گا

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور بولا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے کرنے سے اللہ مجھ سے محبت کرے اور لوگ (بھی ) مجھ سے محبت کریں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : " دنیا سے بے رغبت ہو جا، اللہ تجھ سے محبت کرنے لگے گا، اور جو لوگوں کے پاس (مال و دولت) ہے اس سے بے نیاز ہو جا، لوگ تجھ سے محبت کرنے لگیں گے"۔

اس حدیث کو علمائے کرام اصول دین میں سے شمار کرتے ہیں، اور اسے مضبوط ایمان اور یقین صادق کی بنیاد سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ حدیث پاک ہر اس چیز کو شامل ہے جسے ہر مسلمان کو اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے طریقے پر دنیا و آخرت کی طلب میں اپنانا چاہیے، لہذا یہ حدیث پاک نبی کریم ﷺ کی جوامع الكلم احادیث میں سے ہے۔

اس شخص کا یہ سوال اس کی حدت عقل اور اچھی سمجھداری پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص اللہ رب العزت اور بنی نوع انسانی سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا، کیونکہ اس نے اللہ رب العزت سے قریب کرنے والے اور اس کے نزدیک اس کا مرتبہ بڑھانے والے عمل کے بارے میں سوال کرنے کے بعد ایسے عمل کے بارے میں سوال کیا جس کے باعث اسے لوگوں کی بھی محبت حاصل ہو جائے، چنانچہ وہ شخص لوگوں سے محبت کرتا تھا اور ایسے عمل کے لئے کوشاں تھا جس کے باعث وہ بھی اس سے محبت کریں، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اللہ رب العزت اس بندہ سے محبت کرتا ہے جو اس کے بندوں سے محبت کرتا ہے، اور بندے اسی سے محبت کرتے ہیں جو ان میں اللہ کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اچھائی اور تقوی میں ان کی مدد کرتا ہے، اسی لئے وہ شخص اس بات کا خواہش مند تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ اسے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے سب سے بہتر عمل بتائیں، تاکہ آسانی سے اسے اللہ رب العزت اور اس کے بندوں کے محبت نصیب ہو جائے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے بہترین اور تشفی بخش جواب عنایت فرمایا جسے وہ آسانی سے یاد کرلے اور کبھی نہ بھولے، اور پھر وہ لوگوں میں نسل در نسل ایک عظیم حکمت کے طور پر منتقل ہو جس میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون