راستوں پر بیٹھنے سے بچو

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: " راستوں پر بیٹھنے سے بچو"، لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! وہاں بیٹھنا ہماری مجبوری ہے،(کیونکہ ان کے علاوہ ہمارے لئے بیٹھنے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کی جگہ ہی نہیں ہے) تو اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر وہاں بیٹھنا مجبوری ہے تو پھر راستہ کا حق بھی دو، لوگوں نے عرض کی: راستہ کا کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : " نگاہ نیچی رکھنا، ( گزرنے والوں کو) تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا"۔ (بخاری)

اسلام جن آداب کو لوگوں میں پھیلانا چاہتا ہے انہیں میں سے مجلس کے آداب بھی ہیں، ان کے بارے میں کچھ پیچھے بیان ہو چکا، اور اب اس حدیث پاک میں اسی کا تکملہ ہے، چنانچہ اس میں اس بات کا بیان ہے کہ اگر مسلمان راستہ پر بیٹھنے کے لئے مجبور ہو جائیں تو راستہ کا کیا حق ہے۔

چنانچہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا " راستوں پر بیٹھنے سے بچو" راستوں کو مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ بنانے سے وارننگ ہے، کیونکہ وہاں بیٹھنے میں بیٹھنے والوں اور گزرنے والوں دونوں ہی کا نقصان ہے، کیونکہ وہاں بیٹھنے سے آنے جانے والی اجنبی عورتوں پر نظریں پڑیں گی، اسی طرح اپاہج و وکلانگ لوگوں پر بھی نگاہیں پڑیں گی، تو بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کوئی ان کی مذاق بھی بنا سکتا ہے، ان کے علاوہ بھی دیگر بری حرکتیں ہوں گی جن سے ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کو بچنا چاہیے، اسی طرح راستوں پر بیٹھنے سے گزرنے والوں کے لئے تنگی ہو گی اور آنے جانے والوں کی آزادی و حریت سلب ہوگی اور خاص کر بچوں اور عورتوں کی، اس کے علاوہ رستوں پر بیٹھنے سے خود انسان کی عزت و احترام اور وقار چلا جاتا ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ راستوں پر اکثر بد معاش اور جاہل و گنوار لوگ ہی بیٹھتے ہیں۔

لیکن آگر مجبوری و ضرورت پڑ جائے تو راستے میں ایک کونے یا اس میں کسی دوسری جگہ بیٹھنے میں کوئی مضائقہ و حرج نہیں ہے، کیونکہ ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو جائز و مباح کر دیتی ہیں

پچھلا مضمون اگلا مضمون