1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. مسواک کیا کرو ، کیونکہ مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور اللہ تعالی کو خوش کرتی ہے

مسواک کیا کرو ، کیونکہ مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور اللہ تعالی کو خوش کرتی ہے

38 2020/06/25 2020/09/21
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ مسواک کیا کرو ، کیونکہ مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور اللہ تعالی کو خوش کرتی ہے، جبریل علیہ السلام جب بھی میرے پاس آئے تو مسواک کی تاکید ضرور کی حتی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ مجھ پر اور میری امت پر وہ( مسواک) فرض کر دے جائے گی، اور اگر مجھے امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس پر مسواک فرض کر دیتا، میں تو اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے لگتا ہے کہ مسوڑےچھیل ڈالوں گا۔‘‘

مسواک فطرتی وطبیعی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، پس کھانے کے بعد منہ یا دانتوں میں لگی ہوئی چیز سے منہ صاف  کرنے  اور  بدبو وغیرہ دور کرنے کے لیے مسواک کا استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ منہ اور داڑھ- دانت سوجن اور ہر قسم کی بیماری سے محفوظ  رہیں۔

نبی کریم ﷺ کے فرمان: "مسواک منہ کو صاف کرتی ہے۔" کا مطلب ہے کہ وہ منہ کی بیماریوں اور جراثیم کو دور کرتی ہے، کیونکہ طہارت وصفائی کا مطلب ہے دور کرنا اور بچانا۔

منہ کی بہت سی خطرناک بیماریاں ہیں: ان میں سے ایک دانتوں کو جھڑنا بھی ہے، چنانچہ یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ اس میں دانت جھڑ کر گرتے ہیں یہاں تک منہ میں ایک بھی دانت نہیں بچتا ہے۔ لہذا اس وقت انسان کو دانتوں کی قیمت کا پتہ چلتا ہے اور پھر مسواک (یا برش) سے انہیں صاف نہ کرنے پر افسوس کرتا ہے، حکماء حضرات کہتے ہیں: پرہیز علاج سے بہتر ہے اور تندرستی صحت مند لوگوں کے سروں کا تاج ہے، اس کی قیمت وہی جانتا ہے جس کے پاس یہ نہیں ہوتی ہے۔

اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ منہ پیٹ کا قدرتی مدخل جو (پیٹ) کہ بیماریوں  کا گھر ہے، ہاضمہ کی جگہ، سینے اور پھیپھڑوں تک جراثیم اور وائرسوں کے جانے کا کھلا راستہ ہے، لہذا ہر مسلمان (بلکہ ہر انسان) کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ منہ کی صفائی کا خیال رکھے خاص کر جبکہ منہ سے بدبو وغیرہ محسوس کرے، نیز مسواک کرنے کے بہت سے دیگر عظیم فوائد بھی ہیں۔

چنانچہ جب مسواک منہ کو صاف رکھتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت، ذکر واذکار اور تفسیر وحدیث یا دوسری شرعی علوم کی کتب پڑھنے سے پہلے مسواک کرنا اللہ کے نزدیک بہت پسندیدہ عمل ہوگا، چنانچہ جو پاک وصاف منہ کے ذریعہ اللہ کا ذکر کرے یقیناً وہ اللہ کے نزدیک اس شخص سے بہتر ہوگا جو منہ کو صاف کیے بنا اللہ کا ذکر کرے۔

عام طور جن اوقات میں مسواک کرنا بہت زیادہ مستحب ہے وہ پانچ ہیں: وضو کرتے وقت، نماز پڑھنے سے پہلے، قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے، سو کر اٹھتے وقت، اور جب منہ کی بو بدل جائے۔

اطباء حضرات بھی مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید کرتے ہیں اور اس کو صحت کے لیے ان ضروری چیزوں میں سے شمار کرتے ہیں جن کا ہر انسان کو خیال رکھنا چاہیے تاکہ منہ بلکہ  سارا بدن بیماریوں سے محفوظ رہے، کیونکہ منہ جراثیم اور وائرسوں کے دخول کا ایک قدرتی راستہ ہے۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day