آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: " آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا تم میں سے ہر ایک یہ دیکھ لے کہ وہ کس سے میل جھول رکھ رہا ہے"، اور مؤمل کی روایت میں ہے کہ آپ  ﷺ نے ارشاد فرمایا: " کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے"۔

اچھے دوستوں کا انتخاب شریعت اسلامی کے مقاصد میں سے ایک ہے، کیونکہ اچھی صحبت سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے، اخلاق میں یک جہتی اور تقوی، احسان اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد ہوتی ہے، جیسا کہ ان کے علاوہ اور بھی اہداف و مقاصد کا حصول ہوتا ہے جنہیں ہر مسلمان اپنے اور دوسروں کے لئے پسند کرتا ہے۔

انسان فطری طور پر جماعت کو پسند کرتا ہے جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے، چنانچہ وہ لوگوں سے دور تنہا نہیں رہ سکتا، اور نہ ہی اسے لوگوں سے دور رہنے میں سکون و چین حاصل ہوگا، اور نہ ہی کوئی خوشی و سعادت حاصل ہو گی اگرچہ وہ اونچے اونچے محلوں میں زندگی بسر کرے جہاں طرح طرح کے کھانے پینے، لباس اور دیگر آرائش وآرام کے سامان ہوں، کیونکہ خوشی و مسرت اور سکون و اطمینان تو گھر والوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے میں ہے۔

نفوس کو بھلائی یا برائی کی طرف لے جانے اور عقلوں کی سدھارنے یا بہکانے میں دوستی کا بڑا اثر ہے، جیسا کہ کسی معاشرے یا جماعت کو ترقی دینے یا اس کے برباد کرنے میں دوستی کا بہت بڑا کردار ہے، اسی لئے اچھے دوستوں کے انتخاب پر اسلام بہت زیادہ زور دیتا ہے تاکہ لوگ آپس میں اتفاق و اتحاد سے زندگی بسر کر سکیں، جسے مذہبی اختلاف، تعصب پرستی اور جاہلی حمیت یا کوئی دنیوی فاسد غرض گدلا نہ کر سکے اور لوگ امن و سلامتی اور پیار و محبت سے زندگی گزاریں۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون