1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. سفر کرو تاکہ فائدہ حاصل کر سکو

سفر کرو تاکہ فائدہ حاصل کر سکو

56 2020/06/25 2020/11/23
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية हिन्दी

سفر کرو تاکہ فائدہ حاصل کر سکو، روزہ رکھو تاکہ صحت مند رہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو تاکہ مال غنیمت ملے"۔

محمد ﷺ ایک بہترین معلم وپیغمبر، مؤثر طبیب اور ایسے حکیم ہیں جن کے دل سے حکمتوں کے چشمے پھوٹتے ہیں، جن کی وصیتیں عمدہ اخلاق اور اعلی نظریات کے اصول، بہترین سلوک کے عام قواعد اور ہر اعتبار سے بہترین ایک اور اعلی زندگی کا طریقہ ہیں، مذکورہ بالا وصیت انہیں نفع بخش وصیتوں میں سے ایک ہے جن کو بہر صورت مد نظر رکھتے ہوئے ان پر عمل کرنا چاہیے۔

حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اپنا رہائشی مقام چھوڑ کر اللہ کی وسیع وعریض سر زمین میں سفر کرتا ہے تاکہ اس کی راہ میں جہاد کرے، یا علم حاصل کرے یا رزق کمائے یا کوئی اور جائز مقصد کو پورا کرے تو وہ جس جگہ ہجرت کر کے جاتا ہے وہاں اسے اس کی مراد مل جاتی ہے۔

جو شخص اللہ کی طرف ہجرت کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلے اور راستہ ہی میں اسے موت آجائے تو بے شک اس کا اجر وثواب اللہ عزوجل کے یہاں ہیں، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

کبھی کبھی سفر کرنا واجب وضروری ہوتا ہے جیسے کہ حج کی ادائیگی کے لیے سفر کرنا، علم کے حصول کے لیے سفر کرنا جبکہ اس کے شہر میں کوئی علم سکھانے والا نہ ہو اور رزق کے حصول کے سفر کرنا جبکہ اس کے شہرمیں زندگی بسر کرنا دشوار ہو جائے یا کمانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، اسی طرح اس وقت بھی سفر کرنا واجب ہے جبکہ اسے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو۔

اور کبھی مستحب ہوتا ہے جبکہ اس سے دنیا میں پھیلی ہوئی اللہ کی آیتوں میں غور وفکر کرنا مقصود ہو یا عافیت وتندرستی حاصل کرنا مقصود ہو، کیونکہ سفر سے نفس کو راحت وسکون پہونچتا ہے اور بدن کو تقویت ملتی ہے جیسا کہ آگے اس کا بیان آئے گا۔

 ان کے علاوہ میں سفر کرنا مباح وجائز ہے جبکہ  گناہ اور اللہ کی نافرمانی کے لیے سفر کرنا حرام ہے۔

سفر کرنے کے بارے میں لوگوں کے مختلف نظریات ہیں، چنانچہ کچھ تو یہ سمجھتے ہیں کہ سفر کے بہت سے فوائد ہیں جنہیں کسی انسان کو چھوڑنا نہیں چاہیے، جبکہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ سفر میں بہت سی پریشانیاں اور دشواریاں ہیں، اور اس کے کچھ بھی اہم فوائد نہیں ہیں۔

مسافر کو سفر کے دوران ایسی چیزیں ملتی ہیں جن سے اس کے نفس کی سکون ملتا ہے، اس کی روح خوشی حاصل ہوتی ہے، اس کے اندر نشاط وچستی پیدا ہوتی ہے، اس کی فکر پروان چڑھتی ہے، اللہ کی وحدانیت اور اس کی عظیم قدرت پر دلائل دیکھ کر اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، نیز اسے وافر رزق الگ حاصل ہوتا ہے جس سے وہ اپنے دین ودنیا کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور جائز مال کے حصول سے زندگی کو خوشگوار بنا سکتا ہے۔

لہذا سفر میں سکون اور تندرستی پوشیدہ ہیں، اور یہ دونوں ایسی عظیم نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد سبھی نعمتوں کو جامع ہیں۔

 

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day