(17) سترہویں وصیت : دبر(پیچھے کے مقام) میں جماع نہ کرے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Español हिन्दी

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے فرماتے ہیں : اللہ کے رسول ﷺارشاد فرماتے ہیں :

" ملعون ہے وہ شخص جو بیوی کی دبر میں جماع کرے"۔[1]

عزیز مسلم بھائیوں اور بہنوں!

اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ مرد کے لیےجائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کے آگے کے حصہ (مقام پیدائش) میں جس طرح چاہے جماع کرے، اس بارے میں آیت کریمہ بھی موجود ہے، اللہ فرماتا ہے :

" نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ" [2]

تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : دبر اور حیض کو چھوڑ کر(ٓگے کے حصہ یعنی مقام پیدائش میں) جس طرح چاہو جماع کرو۔ [3]

لیکن دبر میں جماع کرنا حرام ہے پس اگر کوئی شخص اس کی حرمت کے عدم علم کی وجہ سے ایسا کرتا ہے تو اس کو روکا جائے گا ( اور اس کے بارے میں بتایا جاۓگا) اور اگر وہ علم کے بعد بھی ایسا کرتا ہے تو اس کو سزا دی جائے گی، چنانچہ مروی ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایسا کرنے والے شخص کو ضرب لگائی، اور حضرت ابودرداء سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپنے فرمایا : کیا کافر کے علاوہ بھی کوئی ایسا کر سکتا ہے؟! اور جب حضرت عبداللہ بن عمر  کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : کیا کوئی مسلمان ایسا کر سکتا ہے؟!

ان تمام باتوں سے یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ جس نے اپنی بیوی کی دبر میں جماع کیا اس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بد فعلی سے فوراً  توبہ کرے؛  كىونکہ اسے اللہ نے منع فرمایا ہے اورا س کے کرنے والے پر  حضور ﷺنے لعنت فرمائی ہے، اور یہ لعنت اس پر اس وقت تک ہوتی رہےگی جب تک وہ اس بد فعلی  پر مصر رہے گا بعد اس کے کہ اس کو اس بارے میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی معرفت ہو چکی ہے۔

دور حاضر میں طب نے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ٧٠ فیصد سے زیادہ لوگ بیوی کے پیچھے کے مقام میں جماع کرنے کی وجہ سے ایڈز " AIDS یا HIV"(human immunodeficiency virs)جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

انسان عرصہ دراز سے بہت سارے امراض جیسے،  آتشک (سفلس :syphils)، جريان (gonorrhea)، اور زخم تناسلی (genital ulcer) کو جانتا ہے، جو جماع کی وجہ سے مردوں سے عورتوں، اور عورتوں سے مردوں میں منتقل ہو جاتے ہیں، پھر اسی صدی میں ہم جنس پرستی (homosexuality) کی وجہ سے ایڈز A. I. D. S جیسی مہلک بیماری نے ظہور نے پورے عالم کو تعجب و حیران کر دیا ہے۔

اہل طب حضرات یہ بتاتے ہیں کہ مرد کی منی میں غیر مشبعہ روغنی ترشے یعنی فیٹی ایسڈ (unsaturated fatty acids) مواد پائے جاتے ہیں جنہیں پروسٹگینڈنز (prostaglandins) کہا جاتا ہے، مشہور یہ ہے کہ ان کی تعداد تقریباً بارہ ہوتی ہے،ان میں سے ہر ایک کا اپنا ایک الگ کام اور طریقہ کار ہے، انہیں مواد میں سے کچھ مدافعتی نظام (انگریزی: Immune system) پر اثر کرتے ہیں تو اس کو کمزور کر دیتے ہیں اور سیالویات(lymphocytes) جو انسان میں مدافعتی نظام (immune system) کا کردار ادا کرتے ہیں، کی پیداوار کو کم کر دیتے ہیں۔

اور بدیہی بات ہے کہ مرد اپنی اس منی کو عورت کے اگلے مقام سے اس کے رحم میں ڈالتا ہے جیسا کہ اسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب عزیز اور رسول اکرمﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں حکم دیا ہے، لیکن رحم کے افرازات (رطوبت) میں کچھ ایسے مواد ہوتے ہیں جو مرد کی منی کے مواد مخالف و موافق ہوتے ہیں اور جو مدافعتی نظام کو بڑھاتے ہیں، جیسا کہ علم طب ہمیں بتاتا ہے، اسی وجہ سے  مرد جب اپنی منی کو عورت کے اگلے حصے میں ڈالتا ہے تو اس سے مدافعتی نظام میں کوئی نقص و کمی پیدا نہیں ہوتی ہے۔

اسی سے ہمیں اس کی حکمت و راز کا پتہ چلتا ہے کہ کیوں اللہ نے ہمارے لیےہر قسم کی ہم جنس پرستی  جیسے لواطت و طبق زنی اور عورت کی دبر میں جماع کرنے کو حرام قرار دیا اور کیوں ہمیں عورتوں سے حیض کی حالت میں ان کے پاک ہونے تک دور رہنے کا حکم فرمایا۔[4]

یہ سب نئی معلومات ہیں لیکن اسلام کے لیےنئی نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے چودہ سو سال پہلے ہی اس کے بارے میں قرآن پاک میں ہمیں بتایا دیا ہے۔



[1] (1) یہ حديث صحيح ہے،  احمد ( 2/279 ) ، ( 2/444 ) ،  ابو داؤد ، کتاب النكاح : باب جامع في النكاح ( 2162 )  ابن ماجہ، باب النكاح : باب :باب النھي عن اتيان النساء في دبرھن  (1623)

[2]   سورة البقرہ : 222

[3]  دارمی (1/ 258)

 

[4]  مزید تفصیل کے لیےپروفیسر علی  محمد المطاوع کی کتاب ( مدخل إلى الطب الإسلامي ) کا مطالعہ کریں

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون