(26) چھبیسویں وصیت : زوجین کا ایک ساتھ غسل کرنا جائز ہے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English Français Español हिन्दी

شب زفاف زوجین کے لیےحضور ﷺکی وصیتوں میں سے ایک وصیت دونوں کا ایک ساتھ غسل کے جواز کا بیان ہے، اگرچہ ان کی نظر ایک دوسرے کی شرمگاہ پر پڑے۔

چنانچہ حضرت عائشہ  سےمروی ہے وہ فرماتی ہیں:" میں اور حضور ﷺایک برتن سے غسل کرتے تھے، ہمارے ہاتھ برتن میں   آپس میں ٹکراتے تھے، اور آپ ﷺپانی لینے میں جلدی فرماتے تو میں کہتی تھی : میرے لیےبھی چھوڑ دو، میرے لیےبھی چھوڑ دو"، فرماتی ہیں: اور وه  دونوں جنبی ہوں۔[1]

ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں" اور ہم دونوں جنبی ہوتے تھے "

" جنبی " عربی زبان کا لفظ ہے،" جنابت" سے ماخوذ ہے، جسکا معنی ہے" دور رہنا یا  بچنا " اور عربی میں" جنبی " اس شخص کو کہتے ہیں جس پر جماع یا منی نکلنے کی  وجہ سے  غسل فر ض ہو گیا ہو۔

داؤدی نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنا جائز ہے۔

 

 



[1]    حدیث صحیح ، بخاری (250،261)، مسلم (321)، احمد (6/37،210)، أبو داؤد (77)، نسائی (1/128،201)،و مصنف عبد الرزاق ( 1028،1031)

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون