اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے لہذا تم حج کرو

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو ارشاد فرمایا: " اے لوگوں! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے لہذا تم حج کرو"، تو ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول کیا ہر سال (حج فرض ہے)؟ تو آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ یہی سوال کیا، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں "ہاں" کہ دیتا تو حج (ہر سال) فرض ہو جاتا اور پھر تم (ہر سال) نہ كر سکتے تھے، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو میں تمہیں بتادوں اسی پر اکتفا کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگوں کو اسی بات نے تباہ و بربادكر کیا کہ وہ بہت زیادہ سوالات اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرتے تھے، چنانچہ جب میں تمہیں کسی چیز کے کرنے کا حکم دوں تو جہاں تک ہو سکے تم اسے کرو، اور جب میں کسی چیز سے منع کروں تو اس چیز کو چھوڑدو"۔


یہ حدیث پاک ہمارے لئے اس معاملہ میں ایک بہترین درس ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کس طرح ادب کرنا چاہیے، چنانچہ اللہ نے ہمارے لئے جو حد متعین کردی ہے اسے پار نہیں کرنا چاہیے، جس کام کے کرنے کا ہمیں اس نے حکم دیا ہے اسے کرنا چاہیے اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سے رکنا چاہیے، لہذا یہ حدیث پاک مسلمان کو سیدھی راہ بتاتی ہے، بیہودہ معاملوں سے دور رہنے کا حکم دیتی ہے، جیسا کہ یہ دین میں سختی کرنے اور ایسے چیز کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتی ہی جسے اللہ نے معاف رکھا اور اس کے بارے میں کوئی قطعی حکم نہیں فرمایا، یا پھر اس میں لوگوں کے لئے زمان و مکان کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔


تو جو اللہ نے اپنی مقدس کتاب میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنے افعال و اقوال و تقاریر کے ذریعہ بیان فرما دیا ہمیں اسی کو لازم پکڑنا چاہیے نہ اس پر کچھ زیادتی کرنا چاہیے اور نہ ہی اس میں کچھ کمی، اور جس چیز میں اللہ اور اس کے رسول نے خاموشی اختیار کی اس کے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے، لیکن ہاں اگر ہمیں کوئی بات سمجھ نہیں آتی ہے یا پھر اس میں کچھ تفصیل کی ضرورت ہے تو اس کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون