1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. اے اللہ! میں نے اپنا تن تیرے سپرد کر دیا

اے اللہ! میں نے اپنا تن تیرے سپرد کر دیا

41 2020/06/22 2020/09/19
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروى ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: جب بستر پر جاؤ تو  نماز کی طرح وضو کرو پھر دائیں کروٹ لیٹ کر کہو: "اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ،  رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ"[ترجمہ: اے  اللہ! میں نے اپنا تن تیرے سپرد کر دیا ہے، اپنا معاملہ تیرے حوالے  کر دیا ہے، اور پشت پناہی  کے لیے تیری پناہ میں آگیا ہوں، تجھ ہی سے امید ہے اور تجھ ہی سے ڈرتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں، میں تیری نازل کردہ کتاب اور تیرے مبعوث کردہ نبی پر ایمان لایا] ان کلمات کو سب سے آخر میں کہو ، اگر اسی رات  تمہارا انتقال ہو جائے تو فطرت پر تمہارا انتقا ل ہوگا، حضرت براء کہتے ہیں: میں نے ان کلمات کو نبی کریم ﷺکے سامنے دہرایا تاکہ  اچھی طرح یاد کر لوں، چنانچہ جب میں:اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ" پر پہونچا تو میں نے کہا : "وَرَسُولِكَ" تو آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ کہو: " وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ"

نبی کریم ﷺاپنے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ ایسی وصیتیں فرماتے جنہیں ان کے دین ودنیا کے لیے بہتر ومفید سمجھتے، گو خاص طور پر آپ کا خطاب انہیں صحابہ کرام لیے ہوتا لیکن عام طور پر دیگر صحابہ کرام بھی اس میں شامل ہوتے، ہاں اگر کسی دلیل سے یہ بات ثابت ہو جاتا کہ نبی کریم ﷺکا یہ ارشاد وفرمان صرف انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے (جن سے نبی کریم ﷺمخاطب ہوئے) تو اس وقت دوسرے صحابہ اس میں شامل نہیں ہوتے۔

چنانچہ نبی کریم ﷺنے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت فرمائی تاکہ وہ اسے اچھی طرح سے یاد کرکے اس پر عمل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں تاکہ وہ بھی اس پر عمل کریں، لہذا راویوں نے بڑی ہی دقت کے اس وصیت کو حضرت براء بن عازب سے ہم تک منتقل فرمایا۔

 پیارے بھائیوں! یہ کتنی ہی عمدہ اور بہترین وصیت ہے، کیونکہ یہ بہت سے فوائد اور بڑی حکمتیں پر مشتمل ہے، اللہ والے اسے نبی کریم ﷺکی سب سے بہتر وصیت شمار کرتے ہیں، چنانچہ یہ مستحب ہے کہ جب کوئی اپنے بستر پر لیٹے تو وہ اس وصیت پر عمل کرے اور اپنی روح پروردگار کے سپر کردے، اب چاہے وہ دوبارہ اس میں لوٹادے یا پھر اپنے یہاں روک لے۔

چنانچہ یہ ایک ایسی وصیت ہے کہ مومن جب سفر  یا کام کی تکلیف سے آرام کے لیے اپنے بستر پر لیٹتا ہے تو یہ وصیت اسے قلبی اطمینان وسکون اور راحت پہونچاتی ہے۔

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day