1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. تم سب اللہ کے بندے ہو

تم سب اللہ کے بندے ہو

68 2020/06/24 2020/12/03
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:"تم میں سے کو ئی شخص (اپنے غلام یا لونڈی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ،تم سب اللہ کے بندے ہواور  تمھاری سبھی عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں، بلکہ یوں کہے: میرا خادم (میرا غلام) ، مری خادمہ، میرا لڑکا (یا بیٹا) اور میری لڑکی (یا بیٹی) "۔

اس حدیث پاک سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے وہ یہ کہ جہاں تک ہو سکے ہمیں دوران گفتگو عمدہ سے عمدہ، بہتر ومفید اور نفع بخش الفاظ استعمال کرنا چاہیے، اور ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ کے ادب کے خلاف ہوں، یا جس سے لوگوں کو ٹھیس پہونچے، یا جو انسانی قیم، اخلاقی اصولوں اور عادات حسنہ کے منافی ہوں اوراچھائی سے پرے ہوں۔

بے شک شریعت اسلامیہ ایک مکمل شریعت اور دین ودنیا کے لیے ایک کامل دستور ہے، چنانچہ لوگوں کی ضرورت کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا حل اس کے اندر موجود ہے۔

بلا شبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ سے یہ سب بھی سیکھتے تھے کہ لوگوں سے کس طرح بات کرنا چاہیے اور گفتگو کے دوران ایسے کون سے الفاظ اختیار کرنے چاہئیں کہ جن سے دوسروں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہونچے اور سننے میں برے نہ لگیں جیسا کہ اس حدیث پاک سے واضح ہے۔

چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: " تم میں سے کو ئی شخص (اپنے غلام یا لونڈی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے" یعنی یہ نہ کہے کہ یہ میرا بندہ ہے اور یہ میری بندی ہے، کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی تعظیم وتوقیر، اس سے حیا اور اس کی بارگاہ کے آداب کے خلاف ہے، نیز اپنے خادم یا خادمہ یا غلام یا باندی کو اے میرے بندے اور میری بندی کہہ کر نہ پکارے، کیونکہ اس میں اس خادم یا غلام کی ذلت وحقارت اور توہین اور پکارنے والے کے غرور وتکبر کی بو آتی ہے۔

اور جو اللہ سے شرم وحیا کرتا ہے تو وہ طرح کے الفاظ کا کبھی استعمال نہیں کرتا ہے، چنانچہ بلا شبہ ہم سب اللہ ہی کے بندے ہیں اور ہماری سبھی عورتیں صرف اللہ ہی کی بندیاں ہیں، اور یہ بات ہم فطرتی طور پر جانتے ہیں اور ہمیں بلا شک وشبہ اس کا کامل یقین ہے۔

لہذا ہمیں نبی کریم ﷺ نے یہ سکھایا کہ ہمیں اپنے غلاموں یا خادموں کا تعارف کیسے کرانا چاہیے یا ان سے کس طرح سے مخاطب ہونا چاہیے چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : البتہ یوں کہے : میرا خادم (میرا غلام) ، مری خادمہ، میرا لڑکا (یا بیٹا) اور میری لڑکی (یا بیٹی) " چنانچہ یہ ایسے الفاظ ہیں جن میں پیار ومحبت، شفقت ورحمت اور اعزاز واکرام جھلکتا ہے، اور کہنے والے کی نرم مزاجی، اور اللہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے لیے اس کا ادب واحترام کا پتہ چلتا ہے جیسا کہ یہ الفاظ نفس کو اس کی سرکشی اور غرور وتکبر سے روکتے ہیں اور اسے خالق کائنات کی عظمت کے آگے  تواضع وانكساري پر آماده كرتے ہیں۔

اسلام غلامی کے خاتمے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے لیکن ایک ایسے پر سکون اور با مقصد طریقہ سے جس سے نہ تو معاش میں کوئی خلل واقع ہو، نہ ہی عدل وانصاف کے متصادم ہو اور نہ ہی شفقت ورحمت اور دین ودنیا میں ان  غلاموں کی مصلحتوں کے منافی ہو۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day