( (4چوتھی وصیت : نکاح کا اعلان کرنا اور دف بجانا

مصنف : ابو مریم مجدی فتحی السید
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

شادی کے دن زوجین لیے حضور ﷺکی وصیتوں میں سے ایک وصیت" نکاح کا اعلان کرنا  اور اس میں دف بجانا بھی ہے"۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺارشاد فرماتے ہیں : " نکاح کا اعلان کرو"۔[1]

یعنی بطور خوشی اور دعوت نکاح اور اس کے غیر میں فرق کرنے کے لیےاس کو خوب ظاہر کرو، لہذا  اس حدیث میں پوشیدہ طریقے سے شادی کرنے کو منع کیا گیا ہے، اور اعلان سے مراد اس کو لوگوں کے درمیان شائع و ذائع کرنا ہے، اور یہ اعلان کبھی دف بجا کر کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے اس بات کا   علم هو جاتا ہے کہ جس گھر میں دف بجایا جا رہا ہے اس میں شادی کا جشن منایا جا رہا ہے۔

چنانچہ حضرت ابو بلج یحیی بن سلیم فرماتے ہیں :" میں نے محمد بن حاطب سے کہا:"  میں نے دو  شادیاں کی لیکن دونوں میں سے کسی میں بھی دف نہ بجایا گیا، تو محمد بن حاطب نے فرمایا : حضور ﷺنے ارشاد فرمایا ہے :

"فَصْلُ ما بيْن الحَلالِ والحَرامِ: الدُّفُّ والصَّوتُ في النِّكاحِ".

" حلال اور حرام شادی کے درمیان فرق وامتیاز پیدا کرنے والی چیز  آواز  اور دف بجانا ہے "۔ [2]

مطلب یہ ہے کہ کہ حلال شادی اور حرام شادی کے درمیان جس چیز سے فرق ہوتا ہے وہ اعلان نکاح اوراس کی تشہیر ہے، اور " آواز" سے مراد ذکر وتشہیر  ہے اور " الدف" سے مراد دف بجانا ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے اعلان ہوتا ہے۔

علامہ بغوی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں :" آواز" کا معنی اعلان نکاح اور لوگوں کے درمیان اس کا ذکر کرنا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے " فلان ذهب صوته في الناس" یعنی فلاں انسان کا لوگوں کے درمیان مشہور و معروف ہے، اور بعض لوگ اس طرف گۓ ہیں کہ حدیث میں جو لفظ "الصوت" وارد ہوا ہے اس سے مراد مروجہ سماع ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔

مبارکپوری کہتے ہیں : میرے نزدیک ظاہر یہ ہے - والله أعلم - کہ یہاں" الصوت " سے مراد جائز  گانا ہے؛کیونکہ شادی کے موقع پر دف بجا کر اچھے اشعار کا پڑھنا جائز  ہے، اسی پر " ربیع بنت مغوذ" کی حدیث بھی دلالت کر رہی ہے جو تیسرے باب میں آئے گی۔  [3]

لیکن یہاں پر کچھ سوالات باقی رہ جاتے ہیں : کہ دف کون بجائےگا؟ مرد یا عورت؟ اور کب بجایا جائےگا؟ اور کیا دف بجانے کی کوئی خاص کیفیت ہے؟

سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس باب میں جو احادیث گزریں وہ اس بات کا تقاضہ کرتی ہیں کہ دف صرف شادی واعياد کے موقع پر ہی بجایا جائے،  اس کے لیے بھی شرط یہ ہے کہ وہ  دف چھلنی کی طرح ہو، لیکن اگر اس میں گھنٹیاں اور جھنجھنے ہوں تو پھر اس کے بجانے میں شریعت کی مخالفت ہے کیونکہ اس طرح کے دف مخنث، عیاش، فساق و فجار استعمال کرتے ہیں۔[4] اسی طرح باجے اورتار(گٹار) بجانا بھی حرام ہے، اور ابن عقیل حنبلی فرماتے ہیں: شادی کے موقع پر دف بجانا جائز ۔[5] اور اہل علم کے کلام کی طرف نظر کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ دف بجانا صرف عورتوں کے لیےجائز  ہے، مردوں کے لیےبجانا کسی بھی حال میں جائز  نہیں ہے۔

ابن تیمیہ نے كها  ہے : حضور ﷺاور آپ کے خلفائے  راشدین کے زمانے میں اس کام کے لیےعورتوں ہی کو متعین کیا جاتا تھا اور وہی دف بجاتی تھیں، اور مرد یہ کام نہیں کرتے تھے، بلکہ اسلاف تو گانے بجانے والے شخص کو عورتوں سے مشابہت کی وجہ سے مخنث کہتے تھے۔ [6]

اور یہ بھی كها  ہے: گانا، دف بجانا اور تالیاں پیٹنا یہ عورتوں کا عمل ہے، اور سلف ایسے کام کرنے والے شخص کو مخنث کہتے تھے، اور یہ ان کےکلام میں مشہور اور رائج ہے۔ [7]

اور علامہ حلیمی فرماتے ہیں : دف بجانا صرف عورتوں کے لیےجائز  ہے اس لیےکہ یہ در حقیقت انہی کا کام ہے،[8] اس طرح سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ دف بجانے کی وصیت میں عورتیں ہی مراد ہیں، اور عقد نکاح کے اظہار و اعلان اور زوجین کی خوشی اور مسرت کے لئے وہ دف اپنے گھروں میں بجا ئیں گی۔



 [1]یہ حدیث صحیح ہے، امام احمد  (5/4) ، البزار اور طبرانی نے "الکبیر" میں اس کی تخریج کی ہے جیسا کہ "المجمع" (4/289) میں ہے، اور ہیثمی نے کہا ہے : امام احمد کے روات ثقات ہیں، ابن حبان  (6/147) اور حاکم (2/97)  نے  بھی اس کی تخریج کی ہے، اور امام ذہبی نے اس کی تصحیح کی ہے اور  اسےباقی رکھا ہے۔

[2] یہ حدیث صحیح ہے، امام احمد  (3/418) 4/259)،امام ترمذی  (1088)،نسائی (6/127)،ابن ماجہ (1896)،سعيد بن منصور نے اپنی " سنن" (629) میں، اور حاکم نے (2/184) اس کی تخریج کی ہے، امام ذہبی نے اس کوتصحیح کی ہے اور اسے باقی رکھا ہے، اور طبرانی نے " الکبیر" (19/242) میں اور بیہقی نے اپنی     "سنن کبری" (7/298)میں بھی   اس کی تخریج کی ہے۔

 

[3]  مبارکپوری کی  " تحفة الأحواذي" (4/203)۔

[4]  ابو العباسی قرطبی کی " کشف القناع" (ص،82)۔

[5] سفرانی کی  "غذاء الألباب" (1/151)۔

 

[6] 6 - ابن تیمیہ کی " الاستقامة" (1/277)

[7]  فتاویٰ ابن تیمیہ(11/565/666)

[8] بیہقی کی " شعب الإيمان" (4/283)

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون

اسی قسم کے مضامین