(15) پندرہویں وصیت : بیوی شوہر کے بستر کو نہ چھوڑے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

اسلام  میں عورت کو نصف معاشرہ   سمجھا جاتا ہے، اس کی اپنی ایک شائستگی عزت و کرامت اور اثر رسوخ ہے، عورت ہی مرد کو لوتھڑے کی صورت میں شکم میں رکھ کر بچے کی شکل میں جنم دیتے ہے، راتوں رات جاگ کراس کی پرورش کرتی ہے، اپنے دودھ سے اس کو پروان چڑھا کر  اخلاق و آداب  سے مزیناس کی تربیت کرتی ہے، چنانچہ عورت مربیہ، طبیبہ حکیمہ، مرشدہ، ماں اور پہلا مدرسہ  ہے۔

اور ایک اچھی بیوی کے لیےضروری ہے کہ ہمیشہ وہ شوہر کی رضا جوئی کرےاس کی ناراضگی سے بچے، اور جب شوہر قضائے شہوت کے لیے بلائے تو اس کو منع نہ کرے، سوائے  عذر شرعی جیسے حیض و نفاس کی حالت میں، چنانچہ ایسی حالت میں عورت کا شوہر کی بات ماننا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی ایسی حالت میں مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے جماع کے لیے بلائے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ "[1]

یعنی حالت حیض میں عورتوں سے دور رہو اور انکے قریب نہ جاؤ جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائیں۔

قریب نہ ہونے کا مطلب ہے کہ جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائیں ان سے جماع نہ کرنا ، اور پاک ہونے کی علامت ہے دم حیض کا رک جانا، تو جب خون رک جائے اور وہ غسل کر لیں تو اب جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اور جو عورت شوہر کا بستر چھوڑ کر کسی اور جگہ رات گزارتی ہے اس پر اس وقت تک فرشتوں کی لعنت ہوتی ہے جب تک وہ اپنی اس  نا فرمانی سے باز آکر شوہر کی بات نہ مان لے۔

اللہ کے رسول ﷺارشاد فرماتے ہیں :" جب عورت اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر الگ رات گزارتی ہے تو صبح تک اس پر فرشتوں کی لعنت ہوتی ہے"۔[2]

اور دوسری جگہ اللہ کے رسول ﷺارشاد فرماتے ہیں :" جب شوہر بیوی کو شہوت کے لیےاپنے بستر پر بلاۓ اور وہ آنے سے انکار کر دے، توشوہر غصے کی حالت میں ہی سو جاۓ  تو اس عورت پر صبح تک فرشتوں کی لعنت ہوتی رہتی ہے "۔ [3]



[1]   سورة البقرة ، آیت:  222

[2] یہ حدیث صحیح ہے، بخاری (5194)، مسلم  (1059)،واحمد  ( 2/ 255، 348، 468)

[3] یہ حدیث صحیح ہے، بخاری (5193)، مسلم  (1069)و احمد ( 2/ 439، 480)

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون