جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے مختصر پڑھائے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:  میں صبح کی نماز جماعت سے فلاں امام کی وجہ سے نہیں پڑھتا ہوں، کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں" ان صحابہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو نصیحت کرتے ہوئے جتنا غصہ میں اس دن دیکھا  اتنا  آپ کو کبھی نہیں دیکھا، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:" اے لوگو ! تم میں سے کچھ لوگ ( نماز با جماعت پڑھنے سے ) لوگوں کو دور کرنے والے ہیں ، پس جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے مختصر پڑھائے ، کیونکہ نمازیوں میں کوئی بیمار ہوتا ہے کوئی بوڑھا کوئی کام کاج والا"۔

نبی کریم ﷺ ہر چیز میں آسانی کرنے کو پسند فرماتے تھے، جب بھی آپ کو دو چیزیں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کے لئے کہا جاتا تو آپ ان میں سے آسان والی چیز اختیار فرماتے اگر اس میں کوئی گناہ نہ ہوتا تو، آپ کے صحابہ کرام یہ بات جانتے تھے، چنانچہ وہ جب بھی کسی انسان کو دیکھتے کہ وہ اپنے آپ یا دوسروں پر کسی کام یا کسی عبادت میں سختی کر رہا ہے تو وہ اس کے اس عمل کو نا پسند کرتے اور اسے ایسا کرنے سے روکتے، اور جب وہ باز نہیں آتا تو نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کرتے تاکہ آپ ﷺ اسے سیدھی راہ بتائیں، اسی طرح ان صحابی کے ساتھ ہوا، چنانچہ جب انہوں نے کسی امام کے پیچھے نماز پڑھی جو نماز لمبی پڑھاتے تھے تو انہوں اس کے پیچھے نماز پڑھنے کو ناپسند کیا، لیکن انہیں اس بات کا خدشہ ہوا کہ جماعت کے ساتھ اس امام کے پیچھے ان کا نماز نہ پڑھنا کہیں ان کی نماز میں کمی، یا اس امام کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کے لئے فتنہ و فساد کا باعث نہ بن جائے، یا وہ جماعت سے نہ نکل جائے، چنانچہ اس بارے میں پوچھنے کے لئے وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اور یہ عرض کیا: " اللہ کے رسول! میں فلاں شخص کے لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ نہ پڑھ کر بعد میں(تنها) پڑھتا ہوں"۔

 

 

 

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون