1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. تم میں سے کوئی "ہائے زمانے کی نامرادی!"(یا کمبختی جیسا جملہ) نہ کہے

تم میں سے کوئی "ہائے زمانے کی نامرادی!"(یا کمبختی جیسا جملہ) نہ کہے

84 2020/06/24 2020/12/03
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ  نے فرمایا: :" اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ کہتا ہے: "ہائے زمانے (وقت) کی نامرادی! (یا کم بختی! ) "، چنانچہ تم میں سے کوئی "ہائے زمانے کی نامرادی!"(جیسا جملہ) نہ کہے، کیونکہ زمانہ (کا مالک ) میں ہوں، میں ہی رات اور دن کو پلٹتا ہوں اور میں جب چاہوں گا ان کی بساط لپیٹ دو گا(یعنی انہیں ختم کر دوں گا) "۔

اسلام میں تحمل مزاجی  تمام اخلاق سے بہتر وافضل صفت ہے، اور مصیبتوں اور پریشانیوں میں صبر کرنا ایمان کا آدھا حصہ اور اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا اس کا دوسرا حصہ ہے، چنانچہ اگر مسلمان کے اندر تحمل مزاجی، صبر اور شکر جیسی عمدہ صفات نہ ہوں تو لامحالہ اس کے اندر حماقت، مصیبت پر جزع وفزغ کرنا اور ناشکری کرنا جیسی بری صفتیں ہی ہوں گی۔

صبر وتحمل سے کام لینے اور ہمیشہ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان سبھی حالات کو بڑی حکمت ودانشمندی اور فہم وفراست سے سنبھال لیتا ہے، مصیبتوں اور پریشانیوں کا بڑے اطمینان وسکون اور کشادہ دلی سے سامنا کرتا ہے اور نعمتوں کے شکریے کے طور پر ایسے افعال وامور انجاد دیتا ہے جن سے اس پر مزید نعمتوں کی بارش ہوتی ہے۔

تحمل مزاجی کا مطلب ہے: لطف ونرمی سے کام لینا، برداشت کرنا، غصے کو پی جانا اور عفو ودرگزر سے کام لینا، اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں کو تحمل مزاجی سے کام لینے کی دعوت دی اور اس پر ابھارا ہے، تحمل مزاجی اور برداشت سے کام لینے والے کی تعریف فرمائی ہے اور اسے جنت عطا  کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کی طرح ہے۔

نیز صبر سے کام لینا ایک بلند وبالا اور اعلی مقام ہے، اللہ تبارک وتعالی نے اسے انسان کے لیے اطاعت وفرمانبردای اور نیک اعمال کرنے، گناہوں کو چھوڑنے اور مقاصد کو پہونچنے کے لیے ایک بہترین معاون ومددگار بنایا ہے۔

جبکہ شکر کے بارے میں ہمارا یہی کہنا کافی ہے کہ یہ عبادت کی روح اور جان ہے۔

يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ؛ یعنی ہائے زمانے (وقت) کی نامرادی! (یا کم بختی!) یہ کلمہ کسی برے کے ہونے یا اچھے کام  کے چھوٹ جانے پر حسرت و افسوس جتانے کے لیے بولا جاتا ہے۔

اے میرے پیارے مسلمان بھائی! سب سے بڑی اور بہتر چیز جس کے ذریعہ بندہ اپنے پروردگار سے قریب ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ تمام اپنے اقوال، افعال اور احوال میں اپنے رب کے ساتھ بڑے ادب واحترام کے ساتھ پیش آئے، چنانچہ کوئی بھی قرب الہی کے مقام تک اس وقت تک نہیں پہونچ سکتا جب تک کہ وہ پوری طرح سے اپنی زبان کو ہر ایسے کلمہ سے محفوظ نہ رکھے جو حمد الہی سے خالی یا اس کے منافی ہو یا اس میں محبت الہی کی جھلک نہ ہو یا پھر وہ اللہ کے کسی بندہ کو ایذا وتکلیف کا باعث ہو، اور اس وقت تک کوئی بھی اللہ جل جلالہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ اس کے افعال اس کے اقوال کے موافق نہ ہوں، چنانچہ ایسی بات نہ کرے جو خود نہیں کرتا ہو یا ایسی چیز پر فخر نہ کرے جو اس کے اندر نہ ہو۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day