1. مضامين
  2. الله كے رسول كى وصيتىں
  3. یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے کے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا۔

یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے کے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا۔

86 2020/06/24 2020/12/03
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية English हिन्दी

حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول رسول ﷺ  نےفرمایا: "یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے کے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا، یا(فرمایا:) بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا، اگر یہ کسی علاقے میں ہو تو تم اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلنا اور اگر کسی(دوسری) جگہ میں (طاعون) موجود ہو تو تم  وہاں نہ جانا۔"

اسلام اپنے منہج میں حقیقت وواقعیت، اپنے احکامات میں عدل وانصاف اور اپنے اوامر اور نواہی میں آسانی پر مبنی ہے جو دنیا وآخرت دونوں میں بندوں کی مصلحتوں اور ان کے فوائد کی پوری رعایت کرتا ہے۔

بندوں کی مصلحتیں دو چیزوں پر مبنی ہیں اور وہ دو چیزیں مفاسد کو دور کرنا اور مصالح کو حاصل کرنا ہیں۔

بلا شبہ مفاسد کو دور کرنا  مصالح کے حاصل کرنے پر مقدم ہے جیسا کہ علمائے اصول فقہ فرماتے ہیں، اسی طرح  برے اخلاق یا بری چیزوں کو چھوڑنا اچھے اخلاق یا اچھی چیزوں کو اپنانے پر مقدم ہے جیسا کہ علمائے ازہر فرماتے ہیں، نیز پرہیز علاج سے بہتر ہے جیسا کہ اطباء حضرات کہتے ہیں۔

یقیناً یہ حدیث پاک مضر بیماریوں اور مہلک آفتوں سے بچنے کے اصول وضوابط میں اصل اور ضابطہ ہے جسے علمائے طب قرنطینہ (انگریزی: Quarantine) یا قیدِ طبّی یا جبری حراست کہتے ہیں، یعنی وبائی بیماریوں کو روکنے کی غرض سے صحت مند لوگوں کو بیماروں سے اور بیمار لوگوں کو صحت مند لوگوں سے ملنے سے روکنا۔

طاعون ایک ایسا قاتل ورم ہے جو بغل، کان کے پیچھے ناک اور نرم گوشت میں پیدا ہوجاتا ہے، یہ ایک ایسا مہلک مرض ہے کہ یہ جس عضو میں ہوتا ہے اسے اور برابر والے عضو کو خراب کر دیتا ہے اور کبھی اس کی وجہ سے انسان کے اندر سے خون اور پیپ نکلتی ہے جس کی وجہ سے جلد ہی اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کے فرمان:

" یہ طاعون ایک عذاب ہے۔" کا مطلب ہے کہ یہ طاعون ایک سخت طرح کا عذاب تھا جو بنی اسرائیل یا ان جیسے لوگوں پر دنیا میں بطور سزا بھیجا گیا تھا۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day