(9) نویں وصیت : عورتوں کو ممنوعہ زینت ترک کرنے کی وصیت

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لیےپسندیدہ زینت اختیار کرنا چاہیے، تاکہ وہ ان کے تعلقات کو مضبوط کرے، لیکن اسی زینت کو اختیار کریں جس کی شریعت نے اجازت دی ہے حدودِ شریعت کو پامال کرنے سے گریز کریں، اسی لیےممنوعہ زینت جیسے نقلی بال لگانا خصوصاً شب زفاف میں،  سے بچیں، اور یہ نقلی بالوں کا استعمال غیر مسلم عورتوں نے شروع کیا، اور وہ ان بالوں کے استعمال اور ان کے ذریعے آرائش میں مشہور تھیں، یہاں تک کہ یہ ان کا شعار اور علامت بن گئی، پھر آہستہ آہستہ یہ کام مسلم عورتوں نے بھی شروع کر دیا، چنانچہ مسلم عورتوں کا یہ نقلی بال استعمال کرنا، اور ان کے ذریعے آرائش و زیبائش کرنا اگرچہ شب زفاف میں ہو کافر عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے، جس سے اللہ کے رسول ﷺنے اپنی ایک وصیت میں منع کرتے ہوئے فرمایا :

" جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے"۔[1]

حضرت سعید المقبری رحمہ اللہ  سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں : میں نے حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ  کو ممبر پر دیکھا، ان کے ہاتھ میں عورتوں کے بالوں کا ایک گچھا تھا ، تو انہوں نے فرمایا : مسلم عورتوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس طرح کے بال استعمال کرتی ہیں؟! جبکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے :" جو عورت اپنے بالوں میں دوسرے بال لگا کر زیادتی کرتی ہے تو یہ ایک دھوکہ اور گناہ کا کام ہے"۔ [2]

 

بدن  پر گدوانا ( ٹیٹو بنوانا) بھی منع ہے لہذا اس سے بھی گریز کریں۔

 

اللہ کے رسول ﷺوصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

" لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".[3]

" اللہ نے بدن گودنے والی اور گدوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے "۔  

حدیث شریف میں جو لفظ" واشمة" آیا ہے، کیا آپ جانتے ہیں یہ کون عورت ہے؟ یہ" وشم" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ہاتھ، یا کلائی یا چہرے یا بدن کے  کسی حصے پر سوئی چبھانا یہاں تک کہ اس سے خون نکل جائے، پھر اس جگہ کو سرمے یا کسی اور چیز سے بھر دینا جسکی وجہ وہ جگہ ہرے رنگ کی ہو جائے، تو ایسا کام کرنے والی کو " واشمة" بدن گودنے والی کہا جاتا ہے، اور یہ کام کروانے والی کو " مستوشمة" بدن گدوانے والی کہا جاتا ہے،  اور اہلِ علم کااس کی حرمت پر اجماع ہے، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺنے اس پر سخت وعید اور تہدید فرمائی ہے۔

 

چہرے اور بھونیں کے بال اکھاڑنا اور اکھڑوانا( یا بنانا  اور بنوانا) اور دانتوں میں  شگاف کرانا بھی منع ہے لہذا اس سے بھی گریز کریں۔

 

ہر مسلم  زوجہ (عورت) کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ بال اکھاڑنے والی یا اکھڑوانے والی یا دانتوں کے بیچ شگاف کرانے والی عورتوں میں سے نہ ہو جائے، کیونکہ ان تمام پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں :

لَعَنَ اللهُ  النَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ

يعنى( چہرے اور بھونیں کے) اللہ نے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی، خوبصورتی کے لیےدانتوں کے بیچ شگاف کرانے والی اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے،  جب قبیلہ بنو اسد کی ایک عورت ام یعقوب کو یہ خبر ملی تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی، اور بولی : میں نے سنا ہے کہ تم فلاں فلاں عورتوں پر لعنت بھیجتے ہو؟!، تو آپ نے فرمایا میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر اللہ کے رسول ﷺنے لعنت کی ہواور جس پر اللہ کی کتاب (قرآن) میں لعنت کی گئی ہو!، ام یعقوب نے کہا : میں نے قرآن پڑھا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں پایا جو تم کہہ رہے ہو؟! تو آپ فرمایا : اگر تم توجہ سے پڑھتیں تو ضرور پاتیں، کیا تم نے اللہ کے اس فرمان کو نہیں پڑھا؟

" وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا " [4]

           یعنی رسول جو تمہیں دیں اس کو لےلو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو،تو ام یعقوب نے کہا : کیوں نہیں، تو حضرت عبداللہ بن مسعودنے فرمایا : بے شک رسول اللہ ﷺنے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے، تو ام یعقوب نے کہا : میں نے تمہاری بیوی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو آپ نے فرمایا : جاؤ اور اس کو دیکھو، تو ام یعقوب گئیں، لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہ پایا، تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : اگر وہ ایسا کرتی تو میں اس کے ساتھ زندگی بسر نہ کرتا ( اس کو چھوڑ دیتا)۔[5]

حدیث شریف میں جو الفاظ " النامصة، المتنمصة ،المتفلجة"  آۓ ہیں تو اس سے کیا مراد ہے، تو " نامصہ اور منتصمہ" یہ" نمص" سے ماخوذ ہیں اور عموماً اس کا معنیٰ ہوتا ہے چہرے کے بال اکھاڑنا، اور خصوصاً اس کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کے ذریعے بھوئیں کے بال اکھاڑنا تاکہ وہ پتلی ہو جائیں اور خوبصورت نظر آئیں، اور" متفلجات " وہ عورتیں ہیں جو عمر زیادہ ہونے کے بعد اپنے دانتوں کا علاج کراتی ہیں ( انکے درمیان جگہ خالی کراتی ہیں) تاکہ وہ کم عمر اور خوبصورت نظر آئیں، تو اس طرح سے وہ لوگوں کو دھوکا دیتی ہیں، چنانچہ ہر بیوی (عورت) کو ممنوعہ زینت سے بچنا چاہیے۔

 

بیوی کا جائز زینت کرنا۔

شادی کے دن یہ رواج ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے لیےآرائش و زیبائش کرتی ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا   کو بھی ان کی شادی میں حضور ﷺکے پاس آنے سے پہلے ان کے والدین کے گھر مزین  کیا گیا تھا، لہذا  دلہن  کی تجمیل وتحسین کرنی والی عورتوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اس کی اس طرح  آرائش و زیبائش کریں کہ شوہر کو خوش کردے اور اسے بھا جائے۔

ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا   فرماتی ہیں : جس وقت حضور ﷺسے میری شادی ہوئی میں چھ سال کی تھی اور رخصتی کے وقت میری عمر نو سال کی تھی، فرماتی ہیں : پھر ہم مدینہ آۓ تو میں ایک ماہ  تک مسلسل بخار کی حالت میں رہی یہاں تک کہ( اس بخار کی وجہ سے) میرے بال جھڑ کر کانوں تک آ گۓ، تو ام رومان (یہ حضرت عائشہ کی ماں ہیں) میرے پاس آئیں، میں اس وقت جھولے پر بیٹھی تھی اور میرے ساتھ میری کچھ سہیلیاں بھی تھیں، تو انہوں نے مجھے آواز دی، میں انکے پاس گئی لیکن میں یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ مجھے کیوں بلا رہی ہیں، ام رومان نے میرا ہاتھ پکڑ کر دروازے پر کھڑا کر دیا، میں ہا ہا کر رہی تھی(یعنى سانس پھول گئی تھی) یہاں تک جب مجھے سکون ملا تو وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے گئیں جہاں انصار کی کچھ عورتیں موجود تھیں، ان عورتوں نے مجھ سے کہا : اللہ تم پر خیر و برکت کا نزول فرمائے، پھر ام رومان نے مجھے ان عورتوں کے حوالے کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور میری آرائش و زیبائش کرکے مجھے سجایا، اور میں بہت گھبرا رہی تھی، چاشت کے وقت جب حضور ﷺتشریف لائے تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالے کر دیا۔[6]



[1]  یہ حدیث صحیح ہے، ابو داود  (4012)، احمد (2/92250)، مصنف ابن ابی شیبہ    (5/322) ابن عبد البر " تمهيد"  (6/80 )

[2] یہ حدیث صحیح ہے، نسائی نے (8/144،145)،طبرانی نے "الكبير "(800)(19/345) میں اس کی  تخریج کی ہے ، اورمسلم شریف میں (14/109) اس کا شاہد موجود ہے جیسا کہ امام نووی کی شرح میں ہے، اور مسند امام احمد (4/101) میں  اس کا متابع موجود ہے۔

[3] یہ حدیث صحیح ہے، حوالہ ٔ سابق۔

[4]  سورة الحشر، آیت 7

[5]  یہ حدیث صحیح ہے، بخاری (5931)  ومسلم (2225)

[6]  مسلم (1422)

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون

اسی قسم کے مضامین