(25) پچیسویں وصیت : جمعہ کے روز جماع کرنا افضل ہے

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

شب زفاف زوجین کے لیےحضور ﷺکی وصیتوں میں سے ایک وصیت یہ ہے کہ وہ دونوں جمعہ کے روز جماع کرنا نہ بھولیں۔

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا :

"‏ مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الإِمَامِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا ‏"‏.[1]

" جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور کرایا، پھر اول وقت میں ہی مسجد گیا اور شروع سے ہی خطبہ میں رہا،  پیدل چل کر مسجد گیا، اور امام کے قریب بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ خطبہ سنا، کوئی لغو بات نہ کی، تو اس کو ہر قدم پر ایک سال صیام و قیام کے برابر ثواب ملے گا"۔

بعض علماء فرماتے ہیں : " غسّل" کا معنی یہ ہے کہ وہ نماز جمعہ سے پہلے بیوی کے ساتھ جماع کرے تاکہ وہ نفس پر قابو رکھےاور اپنی نگاہ کی حفاظت کرے، حضرت وکیع بن جراح سے بھی یہی معنی مروی ہے۔

حضرت خزیمہ فرماتے ہیں : حدیث پاک میں جو" غسّل واغتسل " آیا ہے اس کا معنی یہ ہے، کہ شوہر نے بیوی سے جماع کیا اور اس کے اوپر غسل واجب کیا، اور " ابتکر" کا معنی ہے خطبہ میں شروع ہی سے موجود رہنا، چنانچہ ملاحظہ ہو کہ جمعہ کا دن کتنا ہی افضل ہے۔

 



[1]  حدیث صحیح ہے، ابو داود (345)، احمد (4/104)،نسائی (3/97)و ابن ماجہ (1087)

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون

اسی قسم کے مضامین