(2) دوسری وصیت : شب زفاف شوہر کے لیے دعا کریں

مصنف : ابو مریم مجدی فتحی السید
مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

شوہر کے لیے دعا کرنا حدیث پاک سے ثابت ہے، اور اس کو مستحب کہا گیا ہے،  اور شوہر کے لیے دعائے برکت کرنا چاہیے نہ کہ وہ دعا (بالرفاء والبنين) جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی اس لیےکہ شریعت اسلامیہ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کے اوپر زردي (زعفران)  کا  اثر دیکھا تو ارشاد فرمایا :"یہ کیا ہے"؟ عرض کی یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت سے  گٹھلی بھر سونے کے عوض شادی کی ہے، تو آپ علیہ الصلاة و السلام نے ارشاد فرمایا :

[1]اللہ تم پر  برکت کا نزول فرمائے۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف نے شادی کی اور ان پر زعفران کا اثر دیکھا گیا، جبکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے مردوں کو زعفران اور خلوق خوشبو کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اس لیےکہ یہ عورتوں کا شعار ہے اور مردوں کو عورتوں سے  مشابهت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (چنانچہ زعفران ان صحابی نے نہیں لگائی تھی بلکہ ان کی بیوی نے لگائی   لیکن  جب انہوں نے بیوی سے مباشرت کی تو ان پر بھی کچھ زعفران کا  اثر لگ گیا تھا۔)

کاش ہم حضور ﷺ اس وصیت پر کہ شب زفاف زوجین کے لیے دعائے برکت کی جائے مضبوطی سے عمل پیرا ہو جائیں!

اسی کی میں تمنا اور آرزو کرتا ہوں۔

 

 

 



[1] یہ حدیث صحیح ہے، امام بخاری (7،85)امام مسلم  (1426)،امام ترمذی  (1100)،نسائی (6 /128)،ابن ماجہ  (1907)، عبد الرزاق (10457)، دارمی  (2/143) وبیہقی  "سنن کبری"  (7/80/148) ۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون