(12) بارہویں وصیت : جماع سے پہلے ملاعبت کرنا

مضمون کا ترجمہ.......... زبان میں کیا گیا ہے : العربية Français हिन्दी

اس وصیت پر روشنی ڈالنے سے پہلے ہمیں  اس کے عنوان کے مفہوم کو سمجھ لینا چاہیے، " ملاعبت" کا مطلب ہوتا ہے شوہر کا بیوی کے ساتھ کھیلنا اور اس ہنسی مذاق کرنا، اور یہ ملاعبت کبھی حرکات کے ذریعے ہوتی ہے تو کبھی کلمات کے ذریعے، لیکن یہ سب حدود شرع کے اندر ہو، اور " جماع" کا مطلب ہوتا ہے بیوی کے ساتھ مبا‎شرت اور ہمبستری کرنا۔

حضرت جابررضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے ان سے فرمایا :" کیا تم نے شادی کر لی؟" انہوں نے جواب دیا جی ہاں، آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :" کس کے ساتھ " جواب دیا : مدینہ کی فلانہ  بیوہ عورت کے ساتھ، تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :" تم نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے  اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی  تم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور وہ  تمہارے ساتھ ہنسی مذاق کرتی؟"۔[1]

اور ایک دوسری روایت میں ہے :" مالَكَ ولِلعَذَارَى ولِعابِها ؟" یعنی تم نے  کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی کہ اس کے ساتھ کھیلتے؟ یہ معنی اس وقت ہوگا جب " لعاب" کے لام کو کسرہ دیں، ضمہ کے ساتھ معنی ہوگا" تھوک " اور اس میں اشارہ ہوگا بیوی کی زبان اور اس کے ہونٹوں کے چوسنے کی طرف، کیونکہ ملاعبت اور بوس و کنار کے وقت ایسا ہوتا ہے، لہذا جماع سے پہلے لطف ونرمی سے بات  کرنا، پیار و محبت سے بوسہ و کنار کرنا، الفت و محبت کی باتیں کرکے اس ساتھ کھیلنا اور بیوی کا خوشبو لگانا اور  پر کشش کپڑے پہننا یہ سب باب ملاعبت سے ہے۔

 



[1] ١یہ حدیث صحیح ہے،  بخاری  (5080)، مسلم (1087)،احمد  (3/297،308)،ترمذی (1100)، نسائی (4641)، ابن ماجہ (1860)و سنن دارمی  (2/146)

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون