1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. معاملات میں احسان وبھلائی کرنا

معاملات میں احسان وبھلائی کرنا

47 2021/02/03 2021/04/14

1- فتح مکہ کے روز  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف میں مشغول تھے، تو فضالہ بن عمیر ملوح اس ارادے سے طواف میں داخل ہوئے کہ اچانک فخرِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے دلی خیال کا انکشاف ہو گیا، جب طواف کرتے ہوئے فضالہ آپ کے قریب آئے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : “کیا سوچ رہے ہو؟” فضالہ نے بات ٹالنے کے لئے کہا: “کچھ نہیں، میں تو اللہ کے ذکر میں مشغول تھا۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ے فرمایا: “ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو” اور ساتھ ہی اپنا دستِ مبارک فضالہ کے سینے پر رکھ دیا، فضالہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت اپنا دستِ مبارک میرے سینے سے اٹھایا تو دنیا کی کوئی چیز میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہ تھی۔ (الإصابة  في تمييز الصحابة للعسقلاني)

اس واقعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فضالہ غیر مسلموں کی دوسری قسم یعنی منافقین میں سے تھے جو بظاہر مسلمان ہوں اور حقیقت میں کافر وغیر مسلم ہوں، اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ  تدبیر واحتیاط کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے ان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت محبت میں بدل گئی، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک  ایک انسان کو منافقت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لے آیا، اور یہی تو غیر مسلموں کے ساتھ معاملات کرنے کا اصلی مقصد ہے کہ ان کی نجات کی کوشش کرنا نا کہ ان کی ہلاکت چاہنا۔

2- عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دراز گوش پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی، آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھا یا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جارہے تھے، یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان بت پرست مشرک اور یہودی سب ہی شریک تھے، عبد اللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا، اسی مجلس میں عبد اللہ بن رواحہ بھی موجود تھے، جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبد اللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپالی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ، پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لئے قرآن مجید کی تلاوت کی، عبد اللہ بن ابی ابن سلول بولا، میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو، اب جاؤ اپنی سواری پر واپس جاؤ، اگر ہم میں سے آپ کے پاس کوئی آیا کرے تو اسے ہی یہ باتیں بتایا کرو، اس پر ابن رواحہ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہمیں یہ پسند ہے، پھر مسلمانوں مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ کوئی ارادہ کر بیٹھیں اور ایک دوسرے پر حملہ کردیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہوگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں آ گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: “اے سعد! تم نے سنا کہ ابو حباب -یعنی عبد اللہ بن ابی- نے آج کیا بات کہی ہے۔” حضرت سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اسے معاف کردیجئے اور در گزر فرمائیے، کیونکہ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے  آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمایا ہے، پس اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ ( آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس پر متفق ہوگئے تھے کہ اسے تاج پہنادیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالی نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کردیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہوگیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کردیا۔ صحیح بخاری (132/7)

دیکھا آپ نے کہ عبد اللہ بن ابی نے کیسا ایذا رساں رویہ برتا کہ چادر سے منہ ڈھانپ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ وغیرہ وغیرہ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنی نفرت وعداوت بھری ہوئی تھی ، ان سب چیزوں کے باوجود بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہاں اترنے، انہیں اسلام کی طرف بلانے اور وہاں قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کرتے تھے  اور ان کی قولی وفعلی ایذاؤں پر کتنا  صبر کرتے تھے۔

 

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day