1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. غیر مسلموں کی بیمار پرسی وعیادت کو جانا

غیر مسلموں کی بیمار پرسی وعیادت کو جانا

41 2021/02/04 2021/04/14

امام بخاری اپنی صحیح بخاری باب مشرک کی عیادت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب وہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اور فرمایا:“ اسلام لے آو” تو وہ اسلام لے آیا۔ (6/7)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ ایک سفر کے لیے روانہ ہوئے جسے انہیں طے کرنا تھا، راستے میں انہوں نے عرب کے ایک قبیلہ میں پڑاؤ کیا اور چاہا کہ قبیلہ والے ان کی مہمانی کریں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اسے اچھا کرنے کی ہر طرح کی کوشش انہوں نے کر ڈالی لیکن کسی سے کچھ فائدہ نہیں ہوا، آخر انہیں میں سے کسی نے کہا کہ یہ لوگ جنہوں نے تمہارے قبیلہ میں پڑاؤ کر رکھا ہے ان کے پاس بھی چلو، ممکن ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس کچھ ہو، چنانچہ وہ صحابہ کے پاس آئے اور کہا لوگو ! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے، ہم نے ہر طرح کی بہت کوشش کر ڈالی لیکن کسی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، کیا تم لوگوں میں سے کس کے پاس کچھ ہے؟ صحابہ میں سے ایک صاحب ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ ہاں اللہ کی قسم! میں جھاڑنا جانتا ہوں لیکن ہم نے تم سے کہا تھا کہ ہماری مہمانی کرو (ہم مسافر ہیں) تو تم نے انکار کر دیا تھا اس لیے میں بھی اس وقت تک نہیں جھاڑوں گا جب تک تم میرے لیے اس کی اجرت (مزدوری) نہ ٹھہرا دو، چنانچہ ان لوگوں نے کچھ بکریوں (30) پر معاملہ طے کر لیا، اب یہ صحابی روانہ ہوئے، یہ زمین پر تھوکتے جاتے اور “الحمدللہ رب العالمین” پڑھتے جاتے، اس کی برکت سے وہ ایسا ہو گیا جیسے اس کی رسی کھل گئی ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا جیسے اسے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو، بیان کیا کہ پھر وعدہ کے مطابق قبیلہ والوں نے ان صحابی کی مزدوری ( 30 بکریاں ) ادا کر دی، بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو تقسیم کر لو لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور پوری صورت حال آپ کے سامنے بیان کر دیں پھر دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں، چنانچہ سب لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ اس سے دم کیا جا سکتا ہے؟ (بہر حال) تم نے اچھا کیا، جاؤ ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ لگاؤ”۔ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے، اور یہاں بخاری کی روایت ذکر ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں دو چیزوں پر اقرار کرکے ان کی اجازت دی:

1- مشرک یعنی غیر مسلم پر جھاڑ پھونک کرنا: جس سے صراحتاً یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھاڑ پھونک کے ذریعہ مشرک کا علاج کیا جا سکتا اور قیاسا یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے طریقوں سے بھی اس کا علاج کرنا جائز ہے۔

2- اس پر اجرت لینا۔

ابن عثیمین نے کہا ہے: “ اگر مریض غیر مسلم ہو تو مصلحت کے تحت ہی اس کی عیادت کی جائے جیسے کہ اسے اسلام کی دعوت دینا مقصود ہو، لہذا ایسی صورت وجوبی طور پر یا استحبابی طور پر میں اس کی عیادت کرنا جائز ہے، اور یہ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب وہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے، پھر اس سے فرمایا: “تم مسلمان ہو جاؤ”، اس نے اپنے پاس موجود اپنے باپ کی طرف دیکھا، تو اس سے اس کے باپ نے کہا: “ابوالقاسم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات مانو”، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: “تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو (دوزخ کی) آگ سے نجات دی”۔

 اور امام ابن حجر فرماتے ہیں: ابن بطال نے کہا ہے:“ اس (کافر) کی عیادت اس وقت جائز ہے جبکہ یہ امید ونیت ہو کہ وہ اسلام لے آئے گا، لیکن اگر اس کی یہ نیت نہ ہو تو جائز نہیں ہے۔”  اور ظاہر یہ ہے کہ اس کا حکم مقاصد کے اعتبار سے مختلف ہے، اور کبھی کبھی کافر کی عیادت کسی دوسری مصلحت کی بنیاد پر ہوتی ہے،  ماوردی نے کہا ہے: ذمی کی عیادت جائز ہے، اور قربت پڑوس یا قرابت ورشتداری کی حرمت پر مبنی ہے۔ (فتح الباری لابن حجر، 119/10)

اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ:

1- کوئی غیر مسلم اگر بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرنا اور اس کے لیے دعائے شفا کرنا جائز ہے، نہ کہ دعائے رحمت ومغفرت۔

2- مسلمان ڈاکٹر غیر مسلم کا علاج کرسکتا ہے۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day