1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. ان کی زیارت کرنا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا

ان کی زیارت کرنا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا

37 2021/02/03 2021/04/14

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: “اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک یہودی لڑکے نے جو کی روٹی اور بدبو دار چربی کی دعوت کی۔” اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور کتاب “إرواء الغليل” میں کہا گیا ہے کہ شیخین کی شرطوں کے مطابق اس حدیث پاک کی سند صحیح ہے۔

- اور امام بخاری حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں:" میری والدہ مشرکہ تھیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریش کے ساتھ صلح کے زمانہ میں اپنے والد کے ساتھ ( مدینہ منورہ ) آئیں، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق پوچھا کہ میری والدہ آئی ہیں اور اسلام سے الگ ہیں، (کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ہاں اپنے والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو”۔ (17/7)

نیز امام بخاری روایت کرتے کہتے ہیں کہ ہم سے حدیث بیان کی موسی بن اسماعیل نے، ان سے عبد العزيز بن مسلم نے، ان سے عبد اللہ بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی حُلَہ (ایک جیسی رشیمی چادروں کا جوڑا بکتے ہو ئے) دیکھا تو انہوں نے عرض کیا: “اے اللہ کے رسول! کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ (جبہ) خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جب کو ئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرمائیں!” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :“اس کو (دنیا میں) صرف وہ لو گ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔” پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی حلے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو عطا فرمایا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: “(اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!) میں اسے کیسے پہن سکتا ہوں جبکہ اس کے بارے میں پہلے آپ نے مجھ سے فرمایا تھا جو فرمایا تھا؟” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :“ میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا ہے بلکہ اسے فروخت کر دو یا کسی کو پہنا دو۔” تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ حلہ مکہ میں موجود اپنے ایک بھائی کو ان کے مسلمان ہونے سے پہلے بھجوا دیا۔

 چنانچہ مذکورہ بالا شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کی زیارت کرنا  اور اگر وہ رشتہ دار ہیں تو ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا جائز ہے، کیونکہ اس سے دلوں میں قربت بڑھتی ہے، اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو اللہ عزوجل توفیق دے اور اسی وجہ سے وہ اسلام میں داخل ہو جائے جیسا کہ اس لڑکے کے ساتھ ہوا  جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی زیارت کو جانا اور اسے اسلام کی دعوت دینا اس کے نار دوزخ سے بچنے کا سبب بنا۔نیز حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا اپنی والدہ کے ساتھ کا موقف آپ کے تقوی کا ثبوت ہے؛ کیوں کہ وہ اپنی والدہ کی ملاقات سے معاذ اللہ نافرمانی کی طور پر نہیں رکیں بلکہ اس لیے رکیں کہ وہ اس بارے میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم جان لیں، کیوں کہ ایک سچا مسلمان خواہش نفس کو حکم شریعت پر مقدم نہیں کرتا ہے۔

اسی طرح حضرت عمر بن الخطاب کا اپنے کافر بھائی کو تحفہ بھیجنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان کافر سے اس کی ذات کی وجہ سے نفرت نہیں کرتا ہے بلکہ اس کے کفر سے نفرت کرتا ہے، اسی لیے اس کے اسلام میں داخل ہونے کی امید میں وہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، اور مذکورہ حدیث پاک میں وارد ہوا کہ“حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ حلہ مکہ میں موجود اپنے ایک بھائی کو ان کے مسلمان ہونے سے پہلے بھجوا دیا” جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کافر بھائی نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا، لہذا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اچھے سلوک نے ہر زمانے میں بہت سوں کے داخل اسلام ہونے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔

لیکن مسلمان کو اس کا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلق رکھنے میں ان کی ہدایت ورہنمائی کی نیک  نیت  شامل ہو اور ان کے اثر و رسوخ کے چنگل میں نہ پڑے،اور  ایسا صرف ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کا ایمان کمزور ہو۔

اور یہ بھی خیال رہے کہ ان کی زیارت ان کے عبادتی مظاہر، ان کے مذہبی عقائد، یا ان کی دنیاوی عیدوں جیسے نئے سال اور کرسمس وغیرہ کے موقع پر نہ کی جائے، اور نہ ہی ان کی عبادت گاہوں جیسے گرجا گھروں وغیرہ میں ایسے موقع پر ان سے ملاقات کی جائے جبکہ وہ اپنی رسومات دکھا رہے ہوں؛ تاکہ جسمانی طور پر ان کا شریک ہونا نہ پایا جائے تاکہ بعد میں نفسیاتی طور پر بھی کوئی اثر نہ ہو؛ کیونکہ اکثر ظاہر کا باطن ہر اثر پڑتا ہے اگرچہ کچھ زمانہ بعد ہو، پس جو ان کی مذہبی رسومات میں شریک ہوتا ہے ہو سکتا ہے کہ ان کا اس پر اثر پڑ جائے اور وہ انہیں اچھا سمجھنے لگے، اور وقت گزرتے گزرتے وہ ان سے متاثر ہوتا جائے، لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ ان میں جایا ہی نہ جائے تاکہ اس برائی کا دروازہ ہی نہ کھلے۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day