1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. غیر مسلموں کے برتن اور کپڑے وغیرہ دیگر سامان استعمال کرنا

غیر مسلموں کے برتن اور کپڑے وغیرہ دیگر سامان استعمال کرنا

38 2021/02/03 2021/04/14

غیر مسلم جو برتن اور کپڑے وغیرہ سامان استعمال کرتے ہیں ان کی دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: ان کے سامان حرام وممنوعہ چیزوں سے بنے ہوں جیسے سور وغیرہ کی کھال یا اس کے دیگر اعضاء کے ہوں یا سونے چاندی کے ہوں، چنانچہ اس صورت میں ان کے حرام وممنوعہ چیزوں سے بنے ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

چنانچہ امام بخاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:“جو چاندی کے برتن میں پیتا ہے بے شک وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھرتا ہے”۔(6/251)

دوسری صورت: ان کے سامان پاک وجائز چیز سے بنے ہوں جیسے لوہا، لکڑی وغیرہ، ایسی صورت میں ان کے سامانوں کا استعمال کرنا جائز ہے جبکہ اس سے مانع کوئی چیز نہ پائی جائے جیسے کہ وہ برتن کہ جس میں خنزیر کا گوشت پکایا گیا ہو اور پھر اسے دھونے کے لیے پانی موجود نہ ہو۔

امام احمد بن حنبل اور امام ابو داود حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: “ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے تو ہمیں مشرکین کے کھانے پینے کے برتن بھی ملتے تھے، پس ہم (انہیں استعمال کرکے) ان سے فائدہ حاصل کرتے اور صحابہ کرام اسے برا نہیں سمجھتے تھے”۔

چنانچہ مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر مسلموں کے بنائے ہوئے سامان جیسے کہ پاک ومباح کپڑے اور قالینوں وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے۔

نیز یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ غیر مسلموں کے برتنوں کے استعمال کی اباحت یا عدم اباحت کا تعلق نفس فعل یا ان کی ذات سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اس چیز سے جن سے وہ بنائے گئے ہیں، پس اگر پاک ومباح چیز سے بنائے گئے ہیں تو ان کا استعمال جائز ورنہ نا جائز ہے، نیز اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان زندگی کی ضروری چیزوں جیسے کہ کھانے، پینے، پہنے اور سوار ہونے وغیرہ میں اسلام غیر مسلموں کے ساتھ تجارتی منافع کے تبادلے یا کاروبار کرنے یا ان کی نئی نئی ایجادات سے فائدہ اٹھانے سے نہیں روکتا ہے، پس اسلام اس کے استعمال سے منع نہیں کرتا ہے جبکہ وہ شریعت کے موافق ہو اور پاک وجائز چیز سے بنایا گیا ہو۔

اور اسلام کا ان کے ساتھ تجارتی منافع کا جائز کرنا کہ جس سے انہیں مالی فائدہ ہوتا ہے اس بات کو بتاتا ہے کہ اسلام کا انہیں اپنے اندر داخل ہونے کی دعوت دینے اور اس کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنے کا مقصد ان کے مال ودولت کی طمع ولالچ نہیں ہے بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ وہ بنا کسی کو شریک کرے صرف تنہا اللہ عزوجل کی عبادت کریں، کیونکہ وہ اسلام جو ان کو کافر ہونے کے باوجود بھی فائدہ اٹھانے اور مال کمانے سے نہیں روک رہا ہے تو بھلا وہ ان کے اس میں داخل ہونے کے بعد ان سے ان کا مال کیسے لے سکتا ہے؟؟!! ۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day