1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. کیا ہم کافروں کے لیے ہدایت اور مغفرت کی دعا کر سکتے ہیں؟

کیا ہم کافروں کے لیے ہدایت اور مغفرت کی دعا کر سکتے ہیں؟

41 2021/02/03 2021/04/14

امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں بیان کیا کہ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: “اے اللہ کے رسول! قبیلہ دوس نے نافرمانی کی اور (اسلام قبول کرنے سے) انکار کیا، تو آپ ان پر بد دعا کیجئے۔” لوگوں نے سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بد دعا کریں گے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی: “اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے یہاں (یعنی دائرہ اسلام میں) لے آ۔”  ابن حجر کہتے ہیں: “..... مشرکین پر بد دعا کرنا جائز ہے، اور اس کی ممانعت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کی تالیف قلب مقصود ہو اور ان کے اسلام میں داخلے کی امید ہے، اور دونوں قولوں کے درمیان مطابقت اس طرح ہوگی کہ جواز وہاں ہے جہاں بد دعا سے ان کے کفر پر اڑے رہنے سے انہیں زجر وتوبیخ مقصود ہو، اور وہ ممانعت اس وقت ہے جبکہ ان کے کفر پر ہلاک ہونے کی بد دعا کی جائے، اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دعا کو) ہدایت سے مقید کرنا اس بات کو بتاتا ہے کہ دوسری حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا “میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ نادان ہے” میں مغفرت سے مراد ہے ان کی ان سر کشیوں اور مظالم سے معافی ہے کہ جو انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی تھیں، نہ کہ ان کے تمام گناہوں کی مغفرت وبخشش؛ کیوں کہ گناہ کفر(بنا اسلام لائے) معاف نہیں کیا جاتا ہے، یا  “ان کی مغفرت فرما” سے یہ مراد ہے کہ “انہیں اسلام کی ہدایت ورہنمائی دے کہ جس سے ان کی (گناہ کفر سے) مغفرت صحیح ہو جائے”  یا یہ مطلب ہے کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان کی مغفرت فرما، واللہ اعلم”۔ فتح الباری (196/11)

امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد: “میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کے اجازت چاہی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی، اور میں نے اس سے ان کی قبر پر جانے کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی۔” (65/3) لہذا مشرکین کے لئے استغفار کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ کوئی وجہ ہو۔

(مذکورہ حدیث پاک میں استغفار  کی ممانعت سے اس بات پر استدلال کرنا ہر گز صحیح نہ ہوگا کہ معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ مشرکہ تھیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ ملت ابراہیمی پر مومنہ موحدہ  تھیں جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی اور امام سیوطی اور دیگر   علمائے کرام عليهم الرحمة والرضوان نے تحقیق کی  ہے، چنانچہ حدیث پاک میں وارد ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیشہ اللہ عزوجل مجھے کرم والی پشتوں اور پاک وطہارت والے شکموں میں منتقل فرماتا رہا یہاں کہ مجھے میرے ماں باپ سے پیدا کیا۔"اور ایک دوسری روایت میں ہے:

“میں ہمیشہ پاک مردوں کی پشتوں سے پاک عورتوں کی پشتوں میں منتقل ہوتا رہا۔”

اور مشرکوں کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ ﴾یعنی مشرک تو نرے ناپاک ہی ہیں۔ تو ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام آباؤ واجداد کرام وامہات وجدات طاہرات سب اہل ایمان وتوحید ہوں، اور کوئی بھی مشرک نہ ہو، کیونکہ مشرک پاک نہیں بلکہ ناپاک ونجس ہے جیسا کہ قرآن پاک سے ثابت، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاک پشتوں وشکموں سے منتقل ہوتے ہوئے پاک پشت وپاک شکم سے پیدا ہوئے، لہذا آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ اور آپ کے والد ماجد عبد اللہ دونوں ہی اہل ایمان اور جنتی ہیں۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے رسالے “شمول الإسلام لأصول الرسول الكرام” وامام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کی نجات کے بارے رسائل کا مطالعہ فرمائیں کہ آپ نے اس مسئلہ میں چھ رسالے تصنیف فرمائے ہیں، انہیں میں سے ایک رسالہ ہے: التعظيم والمنة فى ان ابوى الرسول فى الجنة”۔ مترجم)

اسی طرح چھینکنے کی صورت میں بھی:

چنانچہ امام ابو داود اپنی سنن میں ابو بردہ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جان بوجھ کر چھینکتے تھے یہ سوچ کر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیں: “يرحمكم الله (یعنی اللہ تم پر رحم کرے)”، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: “يهديكم الله ويصلح بالكم (یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے)”۔(310/4)

کفار ومشرکین کے لیے ہدایت کی دعا کرنا ان کی دلجوئی کے لیے ہے، چنانچہ امام بخاری نے اس سلسلے میں اپنی کتاب میں" باب الدعاء للمشركين بالهدى ليتألفهم" کے نام سے ایک باب باندھا ہے اور اس میں طفیل بن عمرو الدوسی سے مروی مذکورہ بالا حدیث پاک ذکر کی ہے۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day