1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. مسلمان مرد کا کافرہ غیر کتابیہ عورت سے نکاح

مسلمان مرد کا کافرہ غیر کتابیہ عورت سے نکاح

48 2021/02/04 2021/04/14

مسلمان مرد کا کافرہ غیر کتابیہ یعنی غیر یہودیہ ونصرانیہ عورت سے نکاح جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ﴾ (سورہ بقرہ: 221)

ترجمہ: اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں۔ (ترجمہ کنز الایمان)

اور رہا کتابیہ یعنی یہودی یا عیسائی عورت سے مسلمان مرد کے نکاح کرنے کا مسئلہ، تو بہتر یہی ہے کہ اس سے نکاح نہ کرے؛ کیونکہ اس سے نکاح کرنے میں اس مسلم مرد اور اس کی اولاد کے دین پر خطرہ ہے، لیکن اگر چاہے تو کر سکتا ہے، کیونکہ شریعت نے مسلم مرد کو یہودی اور عیسائی عورت سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

﴿الیَوۡمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ، ۪ وَ طَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴾(سورہ مائدہ:5)

ترجمہ: آج تمہارے لئے حلال ہوئیں پاک چیزیں ، اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور تم سے پہلے جن کو کتاب ملی ان کی پاک دامن عورتیں ، جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے نہ مستی نکالتے اور نہ نا آشنا بناتے، اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے۔

تاہم اىسی عورت سے نکاح جائز ہونے کے کچھ شرائط ہیں:

(1) پاک دامن ہو یعنی زانیہ نہ ہو۔

(2) نکاح کی کارروائی شریعت اسلامیہ کے احکام کے مطابق ہو۔

(3) مسلمان باپ کو اس عقد نکاح پر ایسے امور مرتب ہونے کا خوف نہ ہو جو شریعت کے مخالف ہوں، مثال کے طور پر کسی شہر یا ملک میں یہ قانون ہو کہ بچے اپنی ماں کے تابع ہوتے ہوں، اور طلاق وغیرہ کی صورت میں بچوں کی پرورش کی ذمہ داری مسلمان باپ سے زیادہ ماں کو حاصل ہو اور بچے اسی کو دیے جاتے ہوں، یا ماں اپنے مذہب میں متعصبہ وسخت ہو کہ وہ بچوں کو بھی اسے سکھائے، یا انہیں عیسائی گرجا گھروں یا یہودی عبادت خانوں میں لے جائے؛ کیونکہ ایسی صورت میں اس مسلمان شوہر کی صلب سے ہونے والے بچوں کو سب سے عظیم وخطرناک نقصان لاحق ہوگا، وہ یہ کہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد وہ کفر سے راضی ہوں گے۔

(4) عقد نکاح کی تمام شروط کا پایا جانا۔

(5) مسلمان مرد اس کتابیہ عورت کو اچھی طرح  صاف طور پر یہ سمجھا دے کہ ہماری شریعت میں عقد نکاح کا ہر گز وہ مطلب نہیں ہے جو تمہارے دوستی کا مطلب ہے، اور یہ بھی بتا دے کہ طلاق، وفات اور بچوں کی پرورش وغیرہ سے متعلق سارے حقوق وفرائض اور ذمہ داریوں کا وہ اچھی طرح خیال رکھے۔

(6) مسلمان شوہر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کتابیہ (یہودی یا عیسائی) بیوی کے ساتھ بھی ایسا ہی اچھا سلوک کرے جیسا کہ وہ اپنی مسلمان بیوی کے ساتھ کرتا ہے، اور نفقہ وغیرہ میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی عدل وانصاف کرے، اور اس سے ایسے ہی محبت کرے جیسا کہ ایک شوہر اپنی بیوی سے کرتا ہے، اس سے دینی محبت نہ کرے اور نہ ہی اس کے دین سے راضی رہے، نیز اس پر ضروری ہے کہ وہ اسے اسلام کی دعوت دیتا رہے، کیونکہ یہ ایک بھلائی کا حکم دینا ہے جو ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

(7) آج کے دور میں کچھ مسلمان مردوں کے غیر مسلم عورتوں سے شادی کرنے کے بڑے سلبی نتائج سامنے آئیں ہیں جن میں سے کچھ کا تو اس مرد پر ہی اثر پڑا ہے اور کچھ کا اس کی اولاد پر، خاص طور پر ایسے لوگوں کے ان غیر مسلم ممالک سے شادی کرنے کی وجہ سے جو وہاں کے قواعد قوانین سے واقف نہ تھے، لہذا ہر مسلمان کو اس تعلق سے پورے طور شریعت کے احکام کے ساتھ ساتھ اپنے یا جہاں سے وہ شادی کر رہا ہے وہاں کے قوانین اور اپنے علاوہ کسی دوسرے ملک یا مذہب سے شادی جائز ہونے کی شرطوں کی بھی پوری جانکاری ہونا چاہیے۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day