1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. کیا کافروں کے لیے بد دعا کرنا جائز ہے؟

کیا کافروں کے لیے بد دعا کرنا جائز ہے؟

42 2021/02/03 2021/04/14

امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں“مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بد دعا کرنے کا باب" کے نام سے ایک باب باندھا ہے اور اس میں عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث پاک روایت کی ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے دن مشرکوں کے لیے بد دعا کی کہ:“ اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! جلدی حساب لینے والے! کفار کے لشکر کو شکست دے، اے اللہ! انہیں شکست دے دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے”۔

اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے، تو ابو جہل اور قریش کے کچھ لوگ اٹھے اور مکہ کے کسی کونے سے میں ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر، خون اور اوجھڑی اٹھا کر لائے اور جب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تشریف لے گئے تو انہوں نے وہ غلاظتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دیں،  حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور ان غلاظتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے ہٹایا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرکے اللہ سے دعا کی کہ:“ اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے، ۔ اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے،  اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے ” پھر ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف، عقبہ بن ابی معیط کا نام لیا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:“ اللہ کی قسم! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مرا ہوا پایا”۔

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ کچھ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: “السام علیکم ( تم پر موت آئے)” تو میں نے ان پر لعنت بھیجی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“کیا ہوا تمہیں؟” میں نے کہا:“کیا انہوں نے ابھی جو کہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے اس کا کیا جواب دیا“ وعلیکم” یعنی تم پر بھی وہی آئے”۔ ( یعنی میں نے کوئی برا لفظ زبان سے نہیں نکالا صرف ان کی بات ان ہی پر لوٹا دی) (233/3)

ان ساری احادیث کو یکجا کرکے پتہ چلتا ہے کہ جب کفار ومشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے کر اپنی دشمنی ظاہر کی جیسا کہ قریش ویہود نے کیا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے لیے آمادہ ہو گئے جیسا کہ غزوہ احزاب کے موقع پر کیا یا آپ صلی اللہ علیہ کو غدر ودھوکہ دیا جیسا کہ قبیلہ مضر نے کیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ان کرتوتوں کی وجہ ان کے لیے بد دعا کی، اور  اس کے علاوہ کہیں سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی ایسے شخص کے لیے بد دعا کی ہو جو اس کا مستحق نہ ہو، بلکہ اس کے بر عکس جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے ہدایت کی دعا کرتے تھے جیسا کہ ما سبق میں قبیلہ دوس کے واقعہ میں گزرا۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day