1. مضامين
  2. رسول اللہ ﷺ کا غير مسلموں کی ساتھ سلوک
  3. اس موقف میں مراد کہاں ملی؟

اس موقف میں مراد کہاں ملی؟

36 2021/02/03 2021/04/14

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ آپ سبھی امور کو بڑھی گہری نظروں سے دیکھتے تھے اور دور تک ان کے انجام سے واقف رہتے تھے، اور انہیں مثبت نظر سے دیکھتے تھے، چنانچہ آپ کی یہ نظر اپنی دعوت کے مستقبل کے لیے نیک فالی کی نظر اور بری صلبوں سے بھلائی کی نظر تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مراد کو پہونچے، جیسی آپ نے آرزو کی ویسا ہی ہوا اور آپ کی خواہش پوری ہوئی، کہ کفر وسرکشی کے سردار ولید بن مغیرہ کی صلب سے سیف اللہ المسلول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جنم لیا اور کفر وگمراہیت میں سر غنہ ابوجہل کی صلب سے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، اور اس طرح کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے تاریخ میں موجود ہیں۔

 اسی طرح مدینہ ہجرت کرنے کے بعد وہاں پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی اذیتوں وتکلیفوں پر بہت زیادہ صبر کیا، اس بارے میں امام بخاری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیان کرتی ہیں:

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ اپنی ازواج سے ہمبستری پر قادر ہیں لیکن آپ اس پر قادر نہ ہوتے، سفیان کہتے ہیں کہ جادو کی یہ سب سے سخت قسم ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“عائشہ! تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالی سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے دے دیا ہے، میرے پاس دو فرشتے آئے، ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس، جو فرشتہ میرے سر کی طرف کھڑا تھا اس نے دوسرے سے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کردیا گیا ہے، پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے، - یہ یہودیوں کے حلیف بنی زریق کا ایک شخص تھا اور منافق تھا۔ سوال کیا کہ کس چیز میں ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں، پوچھا جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشے میں جو زروان کے کنویں کے اندر رکھے ہوئے پتھر کے نیچے دفن ہے، حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اندر سے جادو  نکالا، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا، اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا رنگین تھا اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔” بیان کیا کہ پھر وہ جادو کنویں میں سے نکالا گیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا آپ نے اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرایا، فرمایا:" اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی، اور مجھے یہ پسند نہیں کہ میں لوگوں میں اس کا شر پھیلاؤں ”۔

چنانچہ اس واقعہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کو اذیت وتکلیف دینے والے شخص کو معاف ودرگزر کرنے کی ہمارے لیے ایک اعلی مثال پیش کی ہے جب تک کہ وہ اذیت ذات سے متعلق ہو اور اس میں اللہ عزوجل کی کسی حرمت کی پامالی نہ ہو۔

پچھلا مضمون اگلا مضمون
" اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت " ویب سائٹIt's a beautiful day